• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے گیس گردشی قرضہ پلان پر آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کردیا

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کے گیس گردشی قرضہ پلان پر آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کردیا، منظوری کی رپورٹیں غلط ثابت:آئی ایم ایف نے حکومتی پلان پر توثیق کے بجائے وضاحتوں کا مطالبہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق معاملے سے واقف حکام کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے گیس کے گردشی قرضے کے انتظام کے مجوزہ پلان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پلان کے اہم اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں، جن میں مجوزہ پٹرولیم لیوی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے سرکاری کمپنیوں کے منافع کا استعمال شامل ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں فنڈ پروگرام کے تحت جاری مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر یہ منصوبہ آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا تھا۔ تاہم، ان رپورٹس کے برعکس جن میں منظوری کا دعویٰ کیا گیا تھا، آئی ایم ایف کے حکام نے اس تجویز کی توثیق نہیں کی ہے اور اس کے بجائے حکمت عملی کے کئی حصوں پر مزید وضاحتیں طلب کر لی ہیں۔ وزارت توانائی کے اعلیٰ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کے نمائندوں نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے دی گئی بریفنگ کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر نئی لیوی عائد کرنے سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھے گا۔ فنڈ نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا سرکاری شعبے کی توانائی کمپنیوں کے منافع کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا کارپوریٹ کے مروجہ اور معیاری اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا مشن آنے والے دنوں میں اپنے سوالات باضابطہ طور پر پاکستانی حکام کو بھیجے گا تاکہ ان کے تحریری اور وضاحتی جوابات حاصل کیے جا سکیں۔ پاکستان کے گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھ کر تقریباً 3.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس بڑی اضافے کی بنیادی وجہ لیٹ پیمنٹ سرچارجز (ایل پی ایس) یعنی تاخیر سے ادائیگی پر عائد ہونے والے جرمانے ہیں، جن کا تخمینہ 1.6 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق، ٹیکس سے متعلقہ واجبات کو نکال کر قرض کا اصل حجم تقریباً 1.5 ٹریلین روپے ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے ان واجبات نے توانائی کی پوری سپلائی چین میں نقد رقم کے بہاؤ کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیاں بشمول او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ماری انرجیز، جی ایچ پی ایل، مول پاکستان اور پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، گیس فراہم کرنے والے اداروں سے اپنے تقریباً 1.5 ٹریلین روپے کے بقایا جات کی وصولی کی منتظر ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے، نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے رواں سال جنوری 2026 کے اوائل میں ایک جامع ڈیٹ مینجمنٹ پلان منظور کیا تھا۔ اس کمیٹی میں اہم اقتصادی اور توانائی کی وزارتوں کے وزراء کے ساتھ ساتھ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور انرجی ٹاسک فورس کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے میں اگلے پانچ سالوں کے دوران بتدریج قرضہ ادا کرنے کے لیے مالیاتی اور آپریشنل اقدامات کے اشتراک کی تجویز دی گئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید