کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہنشہ ایک انتہائی خطرناک اور سنجیدہ نوعیت کا چیلنج ہے ، اس معاملے میں بڑے بڑے نام سامنے آئے ہیں لیکن وہ کسی کی تضحیک یا کردار کشی نہیں چاہتے، نشے کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے خاندان پر پڑتا ہے، یہ ایک مکمل نیٹ ورک ہے جسکے خاتمے کی ذمہ داری صرف حکومت نہیں بلکہ پوری قوم اور تمام اداروں پر عائد ہوتی ہے، اس لئے اس مسئلے کو ہرگز گلیمرائز نہیں کرنا چاہئے، سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مثالی، وزیراعظم بھی معترف ہیں، آئینی ترمیم کا مسودہ عوامی مفاد میں ہوا تو ضرور ساتھ دینگے، وفاق نے ابھی رابطہ نہیں کیا، ایم کیو ایم کی سیاست عملاً ختم ہو چکی عوام اب انہیں مثبت نظر سے نہیں دیکھتے، شاہراہِ بھٹو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کی جا رہی ہے اور 23 مئی کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس کا افتتاح کرینگے۔ سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ ، صوبائی وزیر برائے بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے شاہراہ بھٹو کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر انہیں منصوبے پر جاری ترقیاتی کام اور پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے شہریوں کو سفری سہولت حاصل ہوگی، سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہوگا اور ٹریفک کے دباؤ میں واضح کمی آئے گی ۔ کراچی پورٹ سے قیوم آباد تک فیز ٹومنصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ بھی اسی موقع پر کی جائیگی۔ پیپلز پارٹی کے مخالفین محض پروپیگنڈے میں مصروف ہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مؤثر ماڈل سندھ نے متعارف کرایا ہے جسے نہ صرف ملک میں سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی شاہراہِ بھٹو منصوبے کو ایوارڈ دیا گیا ہے جبکہ یہ کراچی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کسی نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے تاحال سندھ حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور عوام کو افواہوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔