• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلی بار اینٹی وائرل گولی سے کووِڈ-19سے بچاؤ ممکن، عالمی طبی جریدہ

کراچی (رفیق مانگٹ) عالمی طبی جریدے کا کہنا ہے پہلی بار اینٹی وائرل گولی سے کووِڈ-19 سے بچاؤ ممکن ہے۔نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے مطابق وائرس کے بعد بھی انفیکشن روکنے میں کامیابی، کورونا افزائش روکنے کی نئی دوا سامنے آگئی۔ جاپانی کمپنی کی دوا کی ٹرائل میں اہم کامیابی، دوا لینے والوں میں کووِڈ علامات کی شرح 9 سے کم ہو کر 3 فیصد، سائنسی جریدے کے مطابق انسٹریل ویر پہلی اینٹی وائرل گولی ہے جس نے سائنسی طور پر ثابت کیا ہے کہ یہ ک*ووِڈ-19 کے ممکنہ انفیکشن کو وائرس کے رابطے کے بعد روک سکتی ہے. جریدے نیچر کے مطابق پہلی بار ایک اینٹی وائرل گولی کو ایسے افراد میں کووِڈ-19 سے بچاؤ کے لیے مؤثر پایا گیا ہے جو پہلے ہی وائرس کا شکا ہو چکے ہوں۔ یہ نتائج نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی کلینیکل ٹرائل پر مبنی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ دوا خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے جو اب بھی وائرس سے شدید خطرے میں ہیں، جیسے کیئر ہومز میں رہنے والے افراد یا وہ مریض جو ٹرانسپلانٹ کے بعد مدافعتی نظام کو دبانے والی دوائیں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دوا انسٹریل ویر (Ensitrelvir) کہلاتی ہے، جسے جاپانی دوا ساز کمپنی شیونوگی نے تیار کیا ہے۔یہ ایک اینٹی وائرل دوا ہے، یعنی ایسی دوا جو وائرس کی افزائش کو روکتی ہے۔کورونا وائرس کو جسم میں اپنی نقول بنانے کے لیے ایک مخصوص اینزائم درکار ہوتا ہے۔انسٹریل ویر اس اینزائم کو بلاک کر دیتی ہے، جس سے وائرس مزید پھیل نہیں پاتا۔ یہی طریقہ کار ایک اور معروف دوا پیکسلویڈ (Paxlovid) کے جزو نِرماتریل ویر میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم اس سے پہلے وہ دوا انفیکشن کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ جون 2023 سے ستمبر 2024 کے درمیان ہونے والے ایک بین الاقوامی مطالعے میں 2000 سے زائد افراد شامل کیے گئے، جو ایسے گھروں میں رہتے تھے جہاں کسی ایک فرد میں کووِڈ کی علامات ظاہر ہو چکی تھیں۔ جن افراد کو پلیسبو یعنی ایسی دوا جس میں اصل فعال جزو نہیں ہوتا دیا گیا، ان میں سے تقریباً 9 فیصد افراد میں علامات ظاہر ہوئیں۔

اہم خبریں سے مزید