پشاور (خصوصی نامہ نگار) صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا ہے کہ قدرتی آفات، ماحولیاتی تبدیلی، وبائی امراض، نقل مکانی اور انسانی بحران ہمارے پہلے سے دباؤ کا شکار نظامِ صحت پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں، خیبر پختونخوا بدامنی، قدرتی آفات، مہاجرین کے مسائل اور وبائی امراض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ رہا ہے۔ وہ انسانی ہنگامی حالات میں مضبوط صحت نظام کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام، خیبر میڈیکل کالج کے فیکلٹی ممبران، مختلف تعلیمی و تحقیقی اداروں کے نمائندگان، محققین، اسکالرز اور صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ وزیر صحت نے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر طبی عملے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز نے ہر مشکل وقت میں مثالی کردار ادا کیا ہےخصوصاً کورونا وبا کے دوران صحت کے شعبے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت حکمت عملی، مؤثر منصوبہ بندی اور طبی عملے کی انتھک محنت کے باعث صوبے نے اس چیلنج کا بھرپور مقابلہ کیا۔