لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب انفارمیشن کمیشن کا تاریخی فیصلہ،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو ایچ آر افسر کی تقرری کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم۔ عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ معلومات روکنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن کی تاخیری حربوں پر برہمی۔ پی آئی او یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد جہانزیب نےبتایا کہ فیصلے کا احترام کرتے ہیں،احکامات موصول ہو چکے ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے شہریوں کے آئینی حقِ معلومات سے متعلق اپنے ایک اہم اور دور رس فیصلے میں کہا ہے کہ محض کسی معاملے کا عدالت میں زیرِ سماعت ہونا سرکاری ریکارڈ تک رسائی روکنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ کمیشن نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) کو حکم دیا ہے کہ وہ ہیومن ریسورسز افسر کی تقرری سے متعلق طلب کردہ ریکارڈ، تقرری کے احکامات اور دیگر ملازمت سے متعلق معلومات درخواست گزار کو فراہم کرے۔کمیشن کی جانب سے یہ فیصلہ شکایت نمبر 20-10-2025-2میں سنایا گیا جو ایڈووکیٹ چوہدری مبشر عباس نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلر کے خلاف دائر کی تھی۔ ’’جنگ‘‘ کو حاصل دستاویزات کے مطابق چیف انفارمیشن کمشنر محمد مالک بھلہ اور کمشنر بشری ثاقب کی طرف سے جاری فیصلے میں کہا گہا ہے کہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یونیورسٹی نے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت 26ستمبر 2025کو طلب کی گئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن نے اپنے حالیہ تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ یونیورسٹی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ مطلوبہ تقرری احکامات جاری کرنے سے عدالتی کارروائی کس طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ کسی معاملے کا زیرِ سماعت ہونا ازخود آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 13(1) کے تحت استثنا کا سبب نہیں بنتا۔ مقدمے میں درخواست گزار نے یونیورسٹی کے ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن ریسورسز کی قانونی و آئینی حیثیت اور قائم مقام ڈائریکٹر ایچ آر تصدق شہباز رانا کے سروس ریکارڈ سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔