• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مریم شہزاد

’’امّی! ابّو بکرا لے آئے۔‘‘ یوسف نے کہا تو سائرہ جلدی جلدی ہاتھ پونچھتی باہر آئی۔ ’’ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، کیا زبردست بکرا ہے۔‘‘ سائرہ نےخوشی سےبکرے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’اچھا ہے ناں؟؟‘‘ احسن نے پوچھا۔ ’’لیجیے،آپ کی پسند کبھی خراب ہو سکتی ہے۔‘‘ ’’پورے پچپن ہزار کا ہے۔ چلو، اب جلدی سے چائے بنا لو، مَیں بھی فریش ہوجاؤں، پھر چائے پی کر اس کے لیے چارا وغیرہ لے کرآتا ہوں۔‘‘ احسن نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔ سائرہ نے جلدی جلدی چائے چولھے پر رکھ دی۔ آج اُس کی خوشی دیدنی تھی۔ چائے بناتے بناتے اُس نے امّی کو بھی فون ملا لیا کہ اس کے ہاں پورے پچپن ہزار کا بکرا آگیا ہے۔

چائے پینے کے ساتھ ساتھ دونوں ہی پلاننگ کرنے لگے کہ بقرعید پر کیا پکے گا، کون کون سے مسالے لانے ہوں گے۔ ’’ہاں بھئی، آج ہی پوری فہرست بنا لینا کہ کون کون سے مسالے آنے ہیں، پہلے ہی لکھوادوں دکان دارکو تو اچھا ہے، ورنہ بعد میں ہرچیز شارٹ ہو جاتی ہے۔‘‘ احسن نے کہا تو سائرہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور اُس کے جاتے ہی مسالوں کی فہرست بنانے بیٹھ گئی۔

’’نہاری مسالا، سیخ کباب مسالا، پایا مسالا، تکہ مسالا، بریانی مسالا، اِسٹو مسالا…‘‘ ابھی وہ یاد کر کر کے مزید لکھ ہی رہی تھی کہ اچانک ہی فون کی بیل بج اُٹھی اور اُس نے بےدھیانی میں مسالوں کے نام دہراتےدہراتے ہی فون اُٹھا لیا۔ پھر جلدی سے دیکھا کہ کس کا نمبر ہے، تو بوکھلاہٹ میں فوراً بولی۔ ’’السلام علیکم خالہ جان! کیا حال ہیں؟‘‘ ’’وعلیکم السلام، جیتی رہو، خیریت سے ہو، بڑی جلدی میں فون اُٹھایا، کیا کررہی تھی؟‘‘

خالہ کی کھنکتی آواز سنائی دی۔’’ٹھیک ہوں خالہ، آپ سُنائیں۔‘‘ ’’کیا سُنائیں؟ فون اُٹھاتے کے ساتھ تو تم نے ہمیں اِسٹو مسالا ہی بنا دیا۔‘‘ خالہ ہنستے ہوئے بولیں، تو سائرہ شرمندہ ہوگئی۔ ’’نہیں نہیں خالہ، اصل میں احسن بکرا لے آئے ہیں ناں، تو مَیں لسٹ بنا رہی تھی کہ کون کون سے مسالے منگوانے ہیں۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ یہ کتنے چٹورے ہیں، کہہ رہے تھے کہ بکرے کو دیکھ کر ہی منہ میں پانی آرہا ہے۔ بس، مَیں بعد میں یہ نہ سُنوں کہ یہ مسالا نہیں، وہ چیز کم ہے، بس اس لیے دھیان سارا اُسی طرف تھا۔‘‘

’’اچھا…‘‘ خالہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں۔ ’’آپ سُنائیں، کیسے یاد کیا؟‘‘ ’’یاد تو کسی اور کام کے لیےکیا تھا، مگر اب کچھ اور بات کرنے کا سوچ رہی ہوں۔‘‘ اُنہوں نے بڑے رسان سے کہا۔ ’’کیا ہوا خالہ، سب خیر ہے؟‘‘ ’’ہاں سب خیر ہی ہے، مگر سوچ رہی ہوں کچھ کہا تو کہیں تم ناراض نہ ہوجاؤ۔‘‘ ’’کیا ہوگیا خالہ، ایسا کیا کہنے لگی ہیں، جو مَیں ناراض ہی ہو جاؤں گی۔ پہلے کبھی آپ کی کسی بات کا بُرا مانا ہے مَیں نے؟‘‘’’نہیں بٹیا، کبھی مانا تو نہیں، مگر اب وقت ، حالات اور رویے اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ کسی کو بھی کچھ کہتے، سمجھاتے ڈرہی لگتا ہے، اپنی اولاد منہ پر کہہ دیتی ہے کہ سب پرانے وقتوں کی باتیں ہیں، تو بندہ کسی اور کو کیا سمجھائے۔‘‘

خالہ نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس بھری ۔’’ارے نہیں خالہ آپ کُھل کر بات کریں، مَیں سُن رہی ہوں۔‘‘ سائرہ نے قدرے عاجزی سے کہا۔’’اچھا…‘‘ خالہ چند ثانیے رُکیں۔ جیسے ایک بار پھر سوچ رہی ہوں کہ بولیں یا نہیں۔ پھر بول ہی اُٹھیں۔ ’’برا مت ماننا سائرہ۔ ابھی تم نے کہا کہ خیر سے بکرا آگیا ہے اور تم اور تمہارے میاں صرف اس کو کھانے کی نیّت ہی سے دیکھ رہے ہو، لیکن بٹیا…!!‘‘ ’’نہیں خالہ! پورا بکرا کوئی عید ہی پرتونہیں پکا لیں گے، تھوڑا بانٹیں گے اور کچھ فریز بھی کریں گے۔

ویسے بھی ایک بکرے سے گوشت ہی کتنا نکلتا ہے، ساری ڈشزبھی نہیں بنتیں اور ختم۔‘‘ سائرہ اُن کی بات کاٹتے ہوئے بولی تو خالہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ ’’بیٹا! وہی تو مَیں تم سے کہنا چاہ رہی تھی کہ بقرعید پر قربانی صرف اس لیے تھوڑی کی جاتی ہے کہ بس مزے لے لے کر گوشت کی نت نئی ڈشز ہی کھائی جائیں۔ یہ قربانی تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور سُنّتِ ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہوتی ہے اور اس میں غریبوں، رشتے داروں کا حصّہ بھی ضروری نکالنا ہوتا ہے، سمجھ رہی ہو ناں میری بات؟‘‘

’’جی جی خالہ، بالکل سمجھ رہی ہوں، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔‘‘ ’’ہاں بٹیا! اللہ تعالیٰ کو ہمارا تقویٰ دیکھنا ہوتا ہے…‘‘ ’’اچھا خالہ! بعد میں بات کرتی ہوں، شاید دروازے پر کوئی آیا ہے۔ الله حافظ۔‘‘ سائرہ نے خالہ کی بات بیچ ہی میں کاٹ کر فون بند کردیا۔ ’’اُف! اتنی مشکل سے پیسے جمع کر کر کے بکرا لیا ہے اور یہ کہہ رہی ہیں، سب بانٹ دو، توبہ ہے، کتنا ٹائم ضائع کر دیا۔ اچھی خاصی مسالوں کی فہرست بنارہی تھی۔‘‘ سائرہ نے کاغذ، قلم دوبارہ اُٹھایا اور لسٹ بنانے لگی، اسٹو مسالا، قورما مسالا…