• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ اکیلی تھی، اپنی ذات میں اکیلی، نئی نئی شادی، رفیقِ سفر اور ننّھے بچّے کے ساتھ اَن دیکھے رستوں پر وہ نازک اندام نیم کُھلی آنکھوں اور تھکے قدموں کے ساتھ چلی جارہی تھی۔ محل چھوڑ کر ریگستان کا سفرآسان نہیں تھا۔ کتنے فاصلے طے کیے، پیروں سے کتنے راستے لپٹے، تلووں میں کتنے پتھر چُبھے، کتنے کانٹوں نے دامن سے الجھنے کی کوشش کی، کون حساب کرتا۔ اُسے تو حُکم ملا تھا، چلتے رہنے کا۔ سو، وہ سر جُھکائے چل رہی تھی۔ ایک ایسے راستے پر، جو اُس کی پہچان بننے جا رہا تھا، اُس کے نام سے جڑنے جارہا تھا۔ وہ ابراہیمؑ کی بیوی سے اسماعیلؑ کی ماں کے لقب سے پکاری جانی تھی۔

مستقبل کی خوش خبریاں آدمؑ کے بچّوں کو بتادی جائیں، تو سفر کا مزہ باقی نہ رہے۔ اُسے بھی علم نہیں تھا، اُسے کیا اعزاز ملنا ہے۔ اُس کے پیروں کے نشان، اُس کے سفر کی تھکاوٹ، سب مستقبل میں آنے والے ہزارہا قدموں کا سرمایہ بن جائیں گے۔ ان کی منزلت بڑھائے گی۔

ساتھ چلنے والا ہم سفر اللہ کا جلیل القدر بندہ ابراہیمؑ تھا۔ آگ کے شعلوں میں کندن بننے والا خاکی عظیم المرتبت ابراہیمؑ۔ وہ جس کے سب اپنے اس کے لیے غیر ہو چُکے تھے۔ جان سے پیارے، جان کے دشمن بن گئے تھے۔ صرف ایک وحدہ لاشریک رب کے آگے سجدۂ اطاعت کی دعوت کے عوض، اُن سب نے اُس کے لیے جلائی جانے والی آگ میں، ڈالی جانے لکڑیاں اکٹھی کی تھیں۔

سورج، چاند، ستاروں کے پرستاروں کو اُن کے خالق کی پہچان میں دشواری ہورہی تھی۔ ابراہیمؑ نے ہجرت کے دُکھ کو اپنے وجود میں سمویا تھا، رشتوں کی کڑواہٹ چکھی تھی۔ وہ اللہ کا پیارا تھا اور اللہ کے سبھی پیاروں کو دشت کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ یہ رب سے عشق کا لازمی جزو ہے۔ رب کی اطاعت اسی سے مشروط ہے۔ تھکا ہوا جسم، آبلوں سے مزیّن پیر، جاگتی آنکھیں، صاف ستھرا، خواہشات سے پاک دل۔ یہی پونجی ہے، رب کے دوست بندوں کی۔ یہی سرمایا، یہی متاعِ حیات۔

پانچ ہزار سال پہلے کی دنیا، پہیا ایجاد ہونے میں بڑا وقت تھا، اونٹ صحرا کا جہاز تھا، مگر عراق سے مکّہ کے سفر میں اونٹ کی اونچی پیٹھ بھی نہیں تھی، بس پیر تھے اور مٹی سے اٹے راستے۔ مکّہ خود کالے پہاڑوں سے گھری وادیٔ ذی زرع تھی۔ نہ پھل، نہ میوے، نہ اناج، نہ میٹھے پانی کے چشمے، نہ کھجور کے لمبے پتّوں کے سائے۔

ہوا گرم، سورج کی تپش میں تیزی تھی اور منزل نامعلوم مگر یقینی۔ یقین ہو تو سفر خُود منزل بن جاتا ہے۔ رب کی رضا کی منزل، پھر جس مقام تک پہنچنا ہو اسے معلوم کرنے کی بہت فکر نہیں ہوتی۔ مادی مقام سے روحانی مقام بلند تر ہوتا ہے۔

کہنے کو اُس وقت وہ ایک عام سی عورت تھی۔ ایک بیوی، ایک ماں اور رب کی ایک بندی۔ ہجرت کا طویل سفر، بیابان کا قیام، صحرا کی خاک اور دشتِ بےآب وگیاہ میں پیاس اور پانی کی تلاش اُسے سارے آدمؑ کے بیٹے، بیٹیوں کے لیے قابلِ تعظیم اور قابلِ تقلید بنانے والی تھی۔ عجیب سفر تھا اور عجیب قیام۔ ہم سفر آسمان سے آنے والے اگلے حُکم کا منتظر اور وہ حیرانی سے ہم سفرکا چہرہ تک رہی تھی۔ بہت سے ڈر، اندیشے تھے اور سوال بھی… لیکن سوالوں کے جواب نہیں تھے۔

’’آپ ہمیں اکیلا چھوڑ کرجائیں گے…؟؟‘‘ دلِ بےتاب کی بےقراری اور سامنے صرف خاموشی۔ ’’کیا یہ رب کا حُکم ہے؟‘‘ اور ’’ہاں‘‘ کے جواب نے جیسے دل پہ قرار کا مرہم رکھ دیا۔ ’’اچھا تو پھر مَیں رب کے حُکم پر راضی ہوں۔‘‘ ابراہیمؑ چلے گئے۔ دعوت کے مشن پر اور ننّھا بچّہ اور بیوی بےآب و گیاہ ریگستان میں بغیر دانہ پانی زندگی کے متلاشی رہ گئے۔

گلابی نرم ننّھی ایڑیاں مچل رہی تھیں، پیاس سے زبان خشک تھی اور ہاجرہؑ، ماں کے دل کو آنچل میں سنبھالے ایک بار پھر دشت کی خاک چھان رہی تھی۔ اب کی بار وہ دوڑ رہی تھی۔ بےقراری قدموں سے لپٹی تھی اور قدم تیز پڑ رہے تھے۔ سات چکر، سات بار پانی کے لیے بھاگنا، سات بار ننّھے وجود کو آکر دیکھنا، عشق کی کتاب کا حصّہ بن گیا۔ قبولیت پا گیا۔

عبادت کا جزو بنادیا گیا۔ عشقِ الہٰی اور اطاعتِ الہٰی کی تکمیل ٹھہرا۔ ایک ماں کی بے قراری، تڑپ اور سعی نے زمین کی تہہ سے ٹھنڈے میٹھے پانی کی مُشک کا منہ کھول دیا۔ صاف شفّاف پانی اپنی قسمت پر نازاں ہوگیا۔ پانی جو زندگی ہے، بیش قیمت ہوگیا۔

ہزاروں سال بعد اُسی وادیٔ ذی ذرع میں ابراہیمؑ کی دُعا قبول ہوئی۔ اسماعیلؑ کی نسل سے محمّد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مبارک نام کا چراغِ نبوت طلوع ہوا۔ ابراہیمؑ کا ماننا، ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ پر درود بھیجنا، دُعا کا جواب بنا۔ پیارے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا پیاری بات کہی۔’’اللہ امّاں ہاجرہؑ سے راضی ہو، اگر وہ بہتے پانی کو روکنے کے لیے منڈیر نہ بناتیں، تو زم زم چشمے کی صُورت بہتا رہتا۔‘‘ محمّد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے پیروکاروں سے کہا۔

یہ قربانی تمھارے باپ ابراہیمؑ کی سُنّت ہے۔ اور صفا و مروہ پر دوڑنا حج و عُمرے کا رکنِ لازم۔ حُکم ہوا، جو واحد ولاشریک رب کے ماننے والے ہیں، آدمؑ کے بیٹے ہوں یا بیٹیاں، انہی پیروں کے نشان پر ایک عورت کی مامتا کی سی بےقراری سے لبیّک کہتے ہوئے دوڑیں گے، تو رب کی خوش نودی سے سرفراز ہوں گے۔

ایک عورت کے نقشِ قدم، پیغمبرؑ کی بیوی اور پیغمبرؑ کی ماں ہاجرہؑ کے پیروں کے نشان، رہتی دنیا تک رب کے ماننے والوں کے لیے نشان منزل بنا دئیے گئے کہ بےشک، رب اپنے چاہنے والوں کی محنتوں کا بہترین صلہ دیتا ہے۔