؎ تُجھے کس بات کا غم ہے، وہ اتنا پوچھ لیں مُجھ سے…وہ اتنا پوچھ لیں مُجھ سے، تو پھر کس بات کا غم ہے۔ یہ کرّۂ ارض اپنے اندر 8.1ارب سے زائد ابنِ آدم سموئے ہوئے ہے اور اندازاً دو ارب گھرانوں میں منقسم اس انسانی آبادی میں 25 سے30فی صد ایسے افراد ہیں کہ جو 18سال سے کم عُمر بچّوں کے والدین ہیں اور اگر اِس گنتی میں اُن ماں باپ کو بھی شامل کرلیا جائے کہ جن کے بچّے اب بڑے ہوچُکے ہیں، تو یہ تخمینہ اربوں تک پہنچ جاتا ہے۔
مختلف سماجی اور آبادیاتی مطالعے بتاتے ہیں کہ دُنیاکی بالغ آبادی کا 60 سے70 فی صد حصّہ کسی نہ کسی صُورت (حیاتیاتی یا قانونی طور پر) والدین کے منصب پر فائز ہے اور اس حساب سے یہ تعداد 3.5 سے 4.5 ارب کے درمیان ہوسکتی ہے۔
یاد رہے، والدین اوراولاد کی باہمی وابستگی وہ تحفہ ہے، جو قدرت ہمیں عطا کرتی ہے۔ والدین کی اپنی اولاد سے بے غرض محبّت، قربانیاں اور ان کی بہتری کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا ہر قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے اور اِسی طرح اولاد بھی اپنے والدین سے اُلفت، شُکرگزاری، فرماں برداری اور خدمت کے اٹوٹ رشتے میں جُڑی ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود کائنات کایہ انتہائی خُوب صُورت اور خالص ترین رشتہ شکوے شکایتوں، اور غلط فہمیوں کی وجہ سے آلودہ ہوجاتا ہے۔
یکم جون کو منائے جانےوالے’’عالمی یومِ والدین‘‘ سے بہتر کون سا دن ہوگا کہ جب والدین اور بچّے ایک دوسرے کو اپنا دردِ دل سُنائیں، جانے اَن جانے میں اِک دُوجے سے مِلے غموں کی بابت پوچھیں، کچھ کہہ سُن کر اپنے دِلوں کا بوجھ ہلکا کریں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
بدقسمتی سے والدین اوراولاد کے بندھن کو مقدّس رشتوں کی فہرست میں شمار کرکے اس تعلق سے وابستہ مشکلات سے صرفِ نظر کرنے کی روایت بطورِ خاص ہمارے سماج میں بہت گہری ہے اور یہی رِیت ہی اس سوال کو کہ ’’والدین کو اپنی اولاد اور بچّوں کو اپنے ماں باپ سے کیا گِلے شکوے ہیں؟‘‘ اُٹھانے اور معاشرے میں موجود مختلف طبقات کے افراد سے مختصر سروے کرنے کا محرّک بنی۔
سروے کے دوران ایک دِل چسپ صُورتِ حال یہ دیکھنے میں آئی کہ والدین نے تو اپنے بچّوں کی تمام تر شکایات بے لاگ انداز میں بیان کردیں، لیکن اولاد نے اپنے ماں باپ کے رویّے اور طرزِعمل پر نکتہ چینی کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ اولاد کا اپنے والدین کا ادب ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اُن کے بارے میں کُھل کر تبصرہ آرائی سے گریز کرنا مشرقی تہذیب اور اُن کی تربیت کو ظاہر کرتا ہے یا پھر نادیدہ سماجی دباؤ کویا پھر وہ اس عمل کو لاحاصل اور غیرمفید سمجھتے ہیں۔
سروے سے حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوا کہ مختلف عُمر کےوالدین اور بچّوں کی ایک دوسرے سے شکایات مختلف نوعیت کی ہیں۔ والدین کےاپنی اولاد پراعتراضات کاجائزہ لیں، تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں۔
1۔ معمّر والدین کی عام شکایت ہے کہ اولاد اُنہیں وقت نہیں دیتی۔ اپنی روزمرّہ مصروفیات میں مگن بچّوں کے دِلوں میں اُن کے لیے پہلے سی چاہت اور وقعت نہیں رہی۔
مشہور امریکی ناول نگار، ایلزبیتھ اسٹراؤٹ، جو اپنی نگارشات کے ذریعے انسانی نفسیات اور خاندانی تعلقات کی پیچیدگیوں کی بہترین عکاسی کے لیے مشہور ہیں، ’’سماجی غیر مرئیت‘‘ (Social Invisibility) کے تناظر میں کہتی ہیں کہ ’’ایک مخصوص عُمر کو پہنچنے کے بعد آپ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر یہ احساس اپنے ہی بچّوں سے ملے، تو ماں باپ جیتے جی مر جاتے ہیں۔
2۔ والدین کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات اولاد کی ان سے بدتمیزی اور بدزبانی ہے۔ بچّوں کا اونچی آواز میں بات کرنا اور تلخ لہجہ اُن کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، جو اُنہیں اندر ہی اندر توڑ کے رکھ دیتا ہے۔
3۔ اولاد کا اپنے والدین کے مشوروں کو نظرانداز کرنا بھی اُنہیں دُکھی کردیتا ہے، کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دُنیا کے سرد و گرم کا مقابلہ کرنے کے بعد وہ اِس کا بہتر تجربہ رکھتے ہیں، لیکن جب بچّے اُن کی رائے کو فرسودہ خیالات کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، تو وہ خُود کو بہت غیر اہم تصوّرکرنے لگتے ہیں۔
4۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا بچّہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرے، جب کہ تعلیمی اور عملی زندگی میں اولاد کی سُستی و غفلت اُنہیں فکرمند کرکے اُن سے شاکی کردیتی ہے۔
5۔ بچّوں کا اپنی ذمّےداریوں سےغافل ہونا، گھریلو امور میں عدم دِل چسپی، معمولاتِ زندگی میں توازن، سلیقے اور ترتیب کی کمی جیسا کہ اپنی کُتب، ملبوسات اور دیگر اشیاء کو استعمال کے بعد واپس اپنی مقررّہ جگہ پر نہ رکھنا، کمرے سے نکلتے وقت پنکھے، لائٹس بند نہ کرنا، کھانے پینے اور سونے جاگنے کے وقت کا غیر معیّن ہونا اور اس طرح کی دیگر چھوٹی بڑی کوتاہیاں خصوصاً ماؤں کو خاصی گراں گزرتی ہیں۔
6ـ۔ عموماً بچّے اپنے والدین سے گفتگو کرنے سے کتراتے ہیں۔ خاص طور پر ٹِین ایجرز ہر بات اپنے ماں باپ کو نہیں بتاتے اور اپنا زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزارنے کے باوجود بھی اکثر والدین کی کالز یا پیغامات نظر انداز کرتے ہیں اور اولاد کی یہی حرکات و سکنات اکثر والدین کو ناگوار گزرتی ہیں۔
اب ذیل میں اولاد کی جانب سے اپنے والدین پر اُٹھائے گئے چند اہم اعتراضات پیشِ خدمت ہیں۔
1ـ۔ عام طور پر اولاد کو والدین کی اس بات پراعتراض ہوتا ہے کہ وہ ان کا موازنہ دوسرے بہن بھائیوں اور رشتے داروں کے بچّوں یا خُود سے کرتے ہیں، جس سے اُن کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔
2ـ اولاد کا خیال ہے کہ حد سے زیادہ روک ٹوک اور نگرانی، ہر معاملے میں بےجا مداخلت اور صبح وشام وعظ و نصیحت انہیں ذہنی طور پر بوجھل کر دیتی ہے اور عاقل و بالغ ہونے کے باوجود بھی اُنہیں ہمیشہ ’’بچّہ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
3۔ اولاد محسوس کرتی ہے کہ اُسے غیر ضروری طور پر والدین کی پسند اپنانے کا دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کیریئر کا انتخاب، اکثر والدین اپنی ادھوری خواہشات بچّوں کے ذریعے پوری کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں اولاد کی رائے یا خواہش کو اہمیت نہیں دی جاتی اور اُن کے جذبات سمجھے بغیر فیصلے صادر کردیے جاتے ہیں، حتیٰ کہ شریکِ حیات کے انتخاب میں بھی والدین اُن پر اپنی مرضی تھوپتے ہیں۔
4۔ـ والدین کی جانب سےاولاد میں صنفی طور پر تفریق کرنا بچّوں کی ناراضی کی عام اور بڑی وجہ ہے۔ مثال کے طور پر گرچہ بعض فیملیز میں بیٹیوں کو بڑے ناز ونعم سے پالا جاتا ہے، لیکن زیادہ تر گھرانوں میں صُورتِ حال اس کے برعکس ہے۔
خاندانی کاروبار کے نام پر یا کسی اور حیلے بہانے سے دولت اور جائیداد بیٹوں کو منتقل کردی جاتی ہے اور بیٹیوں کو اُن کے شرعی حقِ وراثت سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹوں کو تو خاندان کے باہر سے دُلہن بیاہ کر لانے کی اجازت مل جاتی ہے، مگر بیٹی کی خاندان اور برادری سے باہر شادی معیوب ٹھہرتی ہے۔
5۔ بہ حیثیتِ اولاد اکثر افراد کو اس بات کا قلق ہے کہ اُنہیں والدین کی طرف سے وہ توجّہ اور معیاری وقت نہیں ملا، جس کےوہ حق دار تھے۔
6ـ۔ اولاد اس بات کا بھی گِلہ کرتی ہے کہ اُن کے بہن بھائیوں میں سے ایک یا دوماں باپ کے چہیتے ہوتے ہیں اوراس کا سبب صنف، ان کا سب سے بڑا یا چھوٹا ہونا، شکل و صُورت، معاشی و سماجی حیثیت سمیت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
7ـ کچھ بچّے اس بات پراحتجاج کرتے نظر آئے کہ والدین اپنے جھگڑوں میں اُنہیں فریق بناتے اوراُن کا جذباتی استحصال کرتے ہیں۔
8۔ بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی خاندانوں کے بچے اس بات پر چیں بہ جبیں ہوتے ہیں کہ اُن کے والدین کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کے رسوم و رواج کی پابندی کریں، حالاں کہ انہیں نئے اور بالکل مختلف معاشرے میں جگہ بنانے کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
9ـ کچھ نئی نسلیں اس بات پر بھی شکوہ کُناں ہیں کہ اُن کے والد انہیں بےسہارا چھوڑ کر دُنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے۔
والدین اور اولاد کی ایک دوسرے سے شکایات پر غور کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرے پر جان نثار کرنے والے رشتوں کا معاملاتِ زندگی کو دیکھنے اور سمجھنے کے جداگانہ نقطۂ نظر کا سبب درحقیقت سوچ اور زمانے کا فرق ہے۔
ہر دَور، زمانہ اپنے ساتھ نئے اُفق لیے نمودار ہوتا ہے اور اس لیے لوگوں کے خیالات، نظریات، رجحانات اور روایات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ بدلتے حالات انسانی تعلقات، سماجی ڈھانچے، تعلیم، کام کرنے کے طریقۂ کار الغرض زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتے اور نسلوں کے درمیان کشاکش پیدا کرتے ہیں۔
اس ضمن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہ قول منسوب ہے کہ ’’اپنے بچّوں پر اپنے آداب و رسوم (اپنے زمانے کے طور طریقے) مت ٹھونسو، کیوں کہ وہ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں، جو تمہارے زمانے سے مختلف ہے۔‘‘ اس قول میں ہمارے سوچنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ بیان شدہ شکایات کے ازالے اور باہمی تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے والدین پر فرض ہے کہ:
1۔ وہ گھرمیں ایسا دوستانہ ماحول تخلیق کریں کہ جہاں بچّہ بِلاجھجک اپنی بات کہہ سکے۔ روزانہ کی بنیاد پر کچھ وقت خود خاموش رہ کر بچّے کی بات سُننے کے لیے وقف کریں۔
2 ـ اولاد کی انفرادیت کا احترام کرتے ہوئےکُھلے دِل سے یہ بات تسلیم کریں کہ ہر بچّہ فطرتاً دوسرے بچّے سے مختلف ہوتا ہے اوراس کی اپنی مخصوص قابلیت اور صلاحیت ہوتی ہے۔ بچّے کے دوسروں سے موازنے سے بچتے ہوئے اس میں موجود خوبیوں کی تعریف کر کے اُس کی حوصلہ افزائی کریں۔
3 ـ نظامِ کائنات عدل پر قائم ہے۔ سو، جس حد تک ممکن ہو، اولاد کے معاملے میں بھی عدل و انصاف سے کام لیں۔ اس عمل سے نہ صرف والدین اور اولاد بلکہ بہن بھائیوں کے درمیان بھی کدورتیں اور چپقلش پیدا نہیں ہوتی۔ مرزا سلامت علی دبیرؔ کیا خُوب فرما گئے ہیں کہ ؎ دِل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے…انصاف ہو کس طرح کہ دِل صاف نہیں ہے۔
4۔ یہ آزمودہ بات ہے کہ بچّے وہ نہیں کرتے، جو ہم اُنہیں کہتے ہیں بلکہ وہ کرتے ہیں، جو وہ ہمیں کرتا دیکھتے ہیں۔ والدین کی مثال ہی اُن کی زندگی کی راہ کا تعیّن کرتی ہے۔
5 ـ نظم وضبط، قواعد اور آفاقی اصولوں کی پابندی انتہائی ضروری ہے، لیکن سرزنش اور تادیب کی بجائے دلیل اور پیار تیر بہ ہدف نسخے ثابت ہوتے ہیں۔ سماجی رسوم اور لوگوں کے خوف سے زیادہ اہم اپنے بچّوں سےمحبّت، اُن کی خوشی اور اُن سے احترام کا رشتہ ہے۔
6 ـ بچّوں کی غلطیوں اور حماقتوں کا ڈھنڈورا دوسروں کے سامنے ہرگز نہ پیٹیں۔
7 ـ اپنے بچّوں کو ذمّےداریاں دے کر اُن پر اعتماد کا اظہار کریں۔ بالآخر یہی بھروسا اُنہیں مضبوط بنائے گا۔
8 ـ۔ والدین اور بچّوں کے تعلق میں مزاح ایک ایسا پُل ہے، جو دُوریوں کوکم کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی بچّوں کی باتوں پر غصہ کرنے کی بجائے اُن کی معصومانہ منطق پر ہنس دینا ماحول کو خوش گوار بنا دیتا ہے۔
دوسری طرف اولاد بھی معمولی سی کوشش کر کے اپنے والدین کا دِل جیت سکتی ہے اور یقیناً اس میں زیادہ فائدہ خود بچّوں ہی کا ہے۔ اس لیے اولاد کو چاہیے کہ:
1ـ۔ اپنی دن بَھر کی مصروفیات میں سے چند لمحات اپنے والدین کے لیے بھی نکالیں۔ اُن سے باتیں کرنا اور اُن کی زندگی کے پُرانے قصّے سُننا انہیں طمانیت فراہم کرتا ہے۔
2- مذہبی اور اخلاقی ہر دو اعتبار سے والدین کے سامنے لہجہ نرم اور آواز دھیمی رکھنا لازم ہے۔ بہ قول اقبال اشہر؎ مَیں نیچا ہو گیا اپنی نظر میں…میری اواز اونچی ہوگئی تھی۔ اگر کسی بات پر والدین سے متفق نہ ہوں، تو نہایت شائستگی سے اپنا نقطۂ نظر اور خواہش بیان کریں اور پھر خاموشی اختیار کر کے نتائج وقت پر چھوڑ دیں۔
3۔ والدین کو اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے منصوبوں اور فیصلوں میں ضرور شامل کریں۔ آخری فیصلہ تو یقیناً آپ اپنے حالات کے مطابق ہی کریں گے، لیکن اس عمل سے نہ صرف انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہوگا بلکہ ان کی تجربے پر مبنی مخلصانہ رائے اور مشورہ آپ کے لیے کوئی نئی راہ بھی کھول سکتا ہے۔
4۔ والدین کی چھوٹی موٹی اعانت کرنا، جیسا کہ گھر کے کاموں میں اُن کا ہاتھ بٹانا، ان کے کھانے اور ادویہ وغیرہ کا خیال رکھنا یا ان سے بےضرر قسم کی ہلکی پُھلکی مدد لینا رشتوں میں خوشی، طمانیت اور محبّت کو بڑھا سکتا ہے۔
5۔ والدین اپنے بچّوں سےمحبّت اور اہمیت کےمتقاضی ہوتے ہیں، جب کہ اس کے مقابلے میں مادّی منفعت انتہائی نچلا درجہ رکھتی ہے۔ اولاد اگر اپنے رویّے سے اپنے ماں باپ کو یہ باور کروانے میں کام یاب ہوجائے کہ اُسے اُن کی ضرورت ہے، تو کافی ساری رنجشیں آپ ہی آپ ختم ہوجائیں گی۔
6ـ خاص طور پر نوجوانوں کو اتنی ذمّےداری کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہیے کہ وہ والدین کو گھر سے باہر اپنی نقل و حرکت سے مطلع رکھیں۔
7- کبھی کبھار زبانی طور پر والدین کا شکریہ ادا کرنا یا اُنہیں کوئی چھوٹا سا تحفہ دینا بھی اُن کی آزردگی ختم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
یہ بات شعوری طور پر سمجھ لینی چاہیےکہ والدین اپنی آرزو کے مطابق اولاد کو تراش سکتے ہیں اورنہ اولاد والدین کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔
دونوں میں سے کوئی بھی اکمل اور بشری کم زوریوں سے مبرّا نہیں اور اس رشتے کی پیچیدگیاں انسانی فطرت، عُمر اور زمانے کے فرق کا شاخسانہ ہیں، جسے والدین اور اولاد کے بدلتے کرداروں میں اختیار اور آزادی کی کشمکش، جداگانہ توقّعات اورمواصلات کی کمی دو چند کردیتی ہے۔
یہ اُلجھنیں، شکایتیں وسیع پانیوں پر بادل کے موہوم سائے کی طرح بادِ صبا کے ایک لطیف جھونکے سے مٹ سکتی ہیں، کیوں کہ ’’کوئی فرد کچھ بھی نہیں ہے، مگر آدھا اپنا باپ اور آدھا اپنی ماں۔‘‘