مشہور ِزمانہ پرتگالی ملاح، واسکو ڈی گاما کا شماربہ یک وقت روشن اور تاریک پہلوئوں کی حامل شخصیات میں ہوتا ہے۔ یورپی تاریخ جہاں اسے جری، مُہم جو، سمندروں کا فاتح اور جدید عالمی تجارت کا بانی قرار دیتی ہے، وہیں افریقا، ایشیا، بالخصوص بھارت کے تناظر میں اس کا کردار انتہائی متنازع اور تاریک نظر آتا ہے۔ اس کی 1498ء کی مُہم نے اگرچہ یورپ کو بھارت تک سمندری راستہ فراہم کیا، لیکن ساتھ ہی ایک ایسے دور کا آغاز بھی کیا، جس میں تجارت طاقت، تشدد اور اجارہ داری کے سائے میں پروان چڑھی۔
واسکو ڈی گاما 1460ء کے لگ بھگ پرتگال کے ساحلی شہر، سینیز میں پیدا ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب پرتگال اپنی بحری قوت کو وسعت دینے کے لیے سرگرم تھا۔ افریقا کے ساحلوں کی دریافت، نئی منڈیوں کی تلاش اور مشرقی دنیا کے قیمتی مسالا جات تک رسائی پرتگالی پالیسی کا بنیادی ہدف بن چکی تھی۔
یورپ میں مسالا جات صرف ذائقے کا حصّہ نہیں، بلکہ معیشت اور طاقت کی علامت سمجھےجاتے تھے، اُن کی تجارت چوں کہ زیادہ تر عرب اور مسلم تاجروں کے ذریعے ہوتی تھی، اس لیے یورپی طاقتوں نے متبادل راستے کی تلاش شروع کی اور اس مقصد کے لیے 1497ء میں پرتگال کے بادشاہ مانویل اول نے واسکو ڈی گاما کو ایک مُہم کی قیادت سونپی۔
واسکو ڈی گاما نے لزبن سے سفر کا آغاز کیا اورافریقا کے مغربی ساحل سے ہوتے ہوئے پہلی بار کیپ آف گُڈ ہوپ (راسِ امید) کو عبور کرلیا، جسے بارتھولومیو ڈیاز پہلے ہی دریافت کرچکا تھا۔ بعدازاں، وہ مشرقی افریقا کے ساحل تک پہنچا، جہاں اس کا سامنا مسلمان تاجروں سے ہوا۔ موزمبیق، ممباسا اور مالندی جیسے شہروں میں عرب اور سواحلی مسلمان صدیوں سے بحرِ ہند میں مصروفِ تجارت تھے۔
بالآخر مالندی میں اس کی ایک تجربہ کار مسلمان جہازراں، احمد بن ماجد سے ملاقات ہوئی۔ احمد بن ماجد کی رہنمائی میں وہ بحرِ ہند عبور کر کے20مئی 1498ء کو بھارت کے ساحلی شہر، ’’کالی کٹ‘‘ (کوزیکوڈ) پہنچا۔ اس طرح پہلی بار یورپ نے سمندر کے ذریعے براہِ راست بھارت تک رسائی حاصل کی۔
یہاں سے اس تاریخی کردار کی کہانی کا وہ رُخ شروع ہوتا ہے، جو عموماً یورپی بیانیے میں کم نظر آتا ہے۔ کالی کٹ میں واسکو ڈی گاما کا سامنا ایک ایسے تجارتی نظام سے ہوا، جو صدیوں سے قائم اور مستحکم تھا۔ عرب، گجراتی، مالاباری اور دیگر ایشیائی تاجر ایک متوازن نیٹ ورک کے تحت تجارت کرتے تھے۔
اس نظام میں مقابلہ ضرور تھا، مگر اس کی بنیاد باہمی مفادات اور کاروبار کے روایتی اصولوں پر تھی ۔ اس کی پہلی ہی مُہم میں اس کے رویّے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اُسے مقامی آداب اور سفارتی نزاکتوں کی قطعاً کوئی پروا نہیں۔ اس کے پیش کردہ تحائف مقامی معیارات کے لحاظ سے بالکل غیر اہم، لیکن توقعات غیرمعمولی تھیں۔ مقامی حکم ران زمورین نے پہلے تو اس کی خوب آؤ بھگت کی، مگر بعد میں اس کے معمولی تحائف دیکھتے ہوئے ایک عام تاجر کی حیثیت دے دی اور اسے اپنی توہین سمجھا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب باہمی بداعتمادی نے جنم لیا۔
دوسری مُہم (1502ء) اس کے اصل عزائم کا اظہار تھی۔ اس بار واسکو ڈی گاما ایک تاجر نہیں، بلکہ ایک مسلح کمانڈر کے طور پر بھارت آیا۔ اس کے جہاز توپوں سے لیس تھے اور اُس کے پاس واضح ہدایات تھیں کہ بحرِ ہند کی تجارت کو پرتگال کے کنٹرول میں لایا جائے، خواہ اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔چناں چہ یہاں سے تجارت کا بنیادی تصوّر ہی بدل گیا۔
واسکو ڈی گاما نے عرب تاجروں کے جہازوں کو نشانہ بنایا، اُن کے قافلوں کو لوٹا اور متعدد جہازوں کو نذرِ آتش کر دیا اور جہازوں کے عملے اور تاجروں کے ناک کان کاٹ کر ان کے وطن بھجوادیئے۔ ایسے ہی ایک ہول ناک واقعے میں اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو نذرِ آتش کیا، جس میں مسلمان زائرین سوار تھے۔ جہاز کالی کٹ سے مکہ جا رہا تھا اور اس میں400 حجاج سوار تھے، جن میں50 خواتین اور بچّے بھی شامل تھے۔ اس جہاز کو نہ صرف لُوٹا گیا بلکہ انتہائی سفاکی سے مسافروں کو قید کر کے جہاز کو آگ لگا دی گئی۔
یہ واقعات محض ایک جنگی کارروائی نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام تھا کہ بحرِ ہند میں اب طاقت کا قانون چلے گا۔ یہی وہ نقطہ ہے، جہاں واسکو ڈی گاما کی شخصیت ایک مُہم جو سے بڑھ کر ایک ایسے کردار میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس نے تجارت کو عسکری قزاقی رنگ دیا۔اس کی حکمتِ عملی تھی کہ خوف پیدا کرو، ، مخالف کو کم زور کرو اور راستوں پر قبضہ کر لو۔ پرتگالیوں نے جلد ہی اس حکمت عملی کو ایک منظم نظام کی شکل دے دی۔
اہم بندرگاہوں پر قلعے تعمیر کیے گئے، بحری گزرگاہوں پر نگرانی قائم کی گئی اور ’’کارٹاز‘‘ کے نام سے ایک اجازت نامہ متعارف کروایا گیا، جس کے بغیر کوئی جہاز بحرِہند میں سفر نہیں کرسکتا تھا۔ واسکو ڈی گاما کے بیانات اور اقدامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی مُہم صرف معاشی نہیں، بلکہ مذہبی رنگ بھی رکھتی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف اس کی سخت پالیسی اور بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے تھےکہ یہ مُہم کسی حد تک صلیبی جنگجوانہ ذہنیت سے متاثر تھی۔
اس تناظر میں اس کی کارروائیاں محض تجارتی نہیں، بلکہ تہذیبی تصادم کا حصّہ بھی محسوس ہوتی ہیں۔1524ء میں وہ وقت بھی آیا، جب اسے بھارت کا وائسرائے مقرر کر کے بھیجا گیا۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ پرتگال کے لیے وہ کس قدر اہم تھا۔ تاہم، اس کی واپسی کا عرصہ مختصر ثابت ہوا، اور اُسی سال کوچین (موجودہ کوچی) میں اس کا انتقال ہو گیا۔ وہ خود تو دنیا سےچلا گیا، مگر اس کے چھوڑے گئے اثرات ایک استعماری عہد کی ابتدا بن چکے تھے۔واسکو ڈی گاما کے بعد دیگر یورپی طاقتوں نے بھی پیسے کے لالچ میں اسی راستے کو اپنایا۔
ہالینڈ، فرانس اور برطانیہ نے بحرِ ہند اور برِعظیم میں اپنے قدم جمائے اور بالآخر مکمل نوآبادیاتی نظام قائم کرلیا۔ اس تناظر میں واسکو ڈی گاما کو صرف ایک ملّاح نہیں، بلکہ ایک ایسے تاریخی عمل کا آغاز سمجھنا چاہیے، جس نے نہ صرف دنیا کے بڑے حصّے کو صدیوں تک بیرونی طاقتوں کے زیرِ اثر رکھا، بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منفی اثرات چھوڑ دئیے۔
تب ہی آج جب ہم اُس کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں، تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ یورپ میں واسکو ڈی گاما، ہمّت و جرأت، تعمیر و ترقی اور دریافت کی علامت، جب کہ بھارت، افریقا اور دیگر متاثرہ خطّوں میں جبر و تشّدد، استحصال و استیصال اور معاشی ناہم واری کے آغازکا سمبل مانا جاتا ہے۔ تاہم، یہ سوال اب بھی اہم ہے کہ کیا دریافت، ہمیشہ ترقی لاتی ہے یا طاقت وَر کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔
واسکو ڈی گاما کی کہانی اسی سوال کا جواب پیش کرتی ہے۔ اس نے اگرچہ دنیا کو نئے بحری راستے کے ذریعے جوڑا، مگر ان راستوں پر چلنے کے قوانین غیر مساوی اور غیر منصفانہ تھے۔ واسکو ڈی گاما ایک عظیم ملّاح ہو سکتا ہے، مگر اس سے منسلک ایسی کہانیاں بھی ملتی ہیں، جو جبر، خوف اور ناانصافی سے عبارت ہیں اور اسے ایک بڑے ملّاح کے بجائے، بحری قزّاق ظاہر کرتی ہیں۔ سو، اس توازن کے ساتھ اُسے یاد رکھنا ہی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کاصحیح طریقہ ہے۔