اِس کائنات میں کئی ایسی چیزیں ہیں، جنہوں نے بنی نوعِ انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ فلسفے، سائنس اور انسانی شعور سے جُڑے اِن معمّوں میں بنیادی اور سرِفہرست محض وقت، کششِ ثقل، حقیقت کی اصل نوعیت، کائنات کی وسعت، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی وغیرہ ہی نہیں کہ یہ انسانی حواس کی حدود سے بالاتر ہونے کی بنا پر براہِ راست دِکھائی نہیں دیتے( اور صرف اُن کے اثرات کا مشاہدہ ہی ممکن ہے)، بلکہ ہماری اپنی ہستی سے منسلک شعور (consciousness) احساسِ ذات یا خُود آگہی، سوچنے کی صلاحیت، جاگنے اور رنگوں کا احساس وغیرہ بھی اِسی فہرست میں شامل ہیں۔
چوں کہ انسان، کائنات اور اپنی ذات سے وابستہ اِن عمیق و دقیق رازوں سے ابھی تک ناواقف ہے، اِسی لیے وہ ان مظاہر اور تصوّرات کی کسی مکمل، جامع اور متفّقہ تعریف سے بھی عاجز ہے، بلکہ وہ تو روز و شب خُود تجربہ کرنے کے باوجود، اپنے جذبات جیسے محبّت، نفرت، خوشی، دُکھ، خوف، اضطراب، اداسی، آزادی، حُسن یا دوستی کو بھی کما حقہ بیان کرنے سے قاصر ہے۔ یہ احساسات ایسے پیچیدہ جذباتی اور نفسیاتی مظاہر ہیں، جو ہر انسان کے لیے مختلف معنی رکھتے ہیں اور اُنہیں کسی سائنسی، لسانیاتی یا لغوی پیمانے میں مقیّد نہیں کیا جا سکتا۔
اگرچہ اِن سوالات کے تسلّی و تشفّی بخش جوابات کے بغیر بھی آدمی اِس دنیا میں گزران کر رہا ہے، مگر یہ طے ہے کہ انسان اور انسانیت کی بقا مہر و محبّت اور الفت و دوستی کے رشتوں کی ضرورت سمجھے اور عملی زندگی میں اُنہیں برتے بغیر دشوار اور محال ہے۔
ہر چند کہ کچھ کج فہم دنیا میں مختلف اقسام کے تعصّبات جیسے مذہب، نسل، زبان، رنگ، خطّہ، طاقت اور دولت وغیرہ کو انسانیت سے زیادہ معتبر سمجھتے ہوئے جنگ و جدال اور نفرت و دشمنی کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں، تو اہلِ دانش ہمیشہ سے کرّۂ ارض کے باسیوں کو اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف سطحوں پر دوستی کے رشتے بنانے اور نبھانے کی تلقین کرتے ہیں۔2011 ء میں اقوامِ عالم سَر جوڑ کے بیٹھیں اور اِس نتیجے پر پہنچیں کہ دنیا میں موجود تقسیم، تفاوت اور اختلاف کو صرف دوستی کی برکت سے ہم آہنگی اور رواداری میں بدل کر امن و آشتی قائم رکھنے کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
لہٰذا، اقوامِ متحدہ کی منتخب کردہ تاریخ 30جولائی کو بیش تر ممالک میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جو مختلف اقوام، ثقافتوں، ممالک اور مذاہب کے پیرو کاروں کے درمیان دوستی کی اہمیت نمایاں اور اسے فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کی جانب متوجّہ کرتی ہیں۔ البتہ، بعض ممالک میں یہ دن منانے کا اہتمام دوسری تاریخوں میں کیا جاتا ہے۔
انسانوں کے درمیان دوستی کی تاریخ اُتنی ہی قدیم ہے، جتنا کہ خود حضرتِ انسان۔ دوستی ایک وسیع مفہوم ہے، جسے ہر ایک نے اپنے اپنے خیالات و حالات کے مطابق سمجھا اور بیان کیا۔ یہ انسانوں کے درمیان ایسا باہمی تعلق ہے، جو سچّائی، اخلاص، اعتماد اور محبّت کی بنیاد پر تعمیر ہوتا ہے اور اِس رشتے میں منسلک افراد ایک دوسرے کی خُوبیوں اور خامیوں سے واقف ہونے کے باوجود، احترام و محبّت کے آفاقی اصولوں پر کاربند رہتے ہیں۔
دوستی ایک ایسا عجیب ناتا ہے، جو خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود بھروسے اور باہمی تعاون کے ذریعے ذہنی سکون اور بہترین ساتھ فراہم کرتا ہے۔ یہ خیر خواہی کا ایک ایسا بے لوث رشتہ ہے، جس میں دوست کی خوشی میں خوش اور غم میں دلی ہم دردی محسوس کی جاتی ہے، یعنی سچّے دوستوں کا آپس میں حقیقی اور قلبی تعلق ہوتا ہے۔ دوستی دو یا دو سے زیادہ انسانوں کے درمیان روحانی و ذہنی ہم آہنگی کا گہرا اور غیر مشروط بندھن ہے، جو عزّت، ہم دردی اور ایسے اعتبار پر قائم ہے کہ کسی بناوٹ یا خوف کے بغیر دل کی بات کہی جا سکے۔
ارسطو کی نظر میں دوستی’’دو جسموں میں ایک جان‘‘ کا نام ہے، جہاں ایک دوست، دوسرے کو بغیر کسی غرض کے قبول کرتا ہے اور اس ضمن میں کسی سماجی، مالی یا دنیاوی فائدے کی چاہ نہیں ہوتی۔ اچھا دوست اپنے دوست کی حمایت ایسے کرتا ہے کہ اُس کا آئینہ بن جاتا ہے، اُس کی خُوبیوں کو سراہتا بھی ہے، مگر خامیوں کی نشان دہی کر کے ٹوکتا بھی ہے۔ دوستی احساس اور نبھانے کا نام ہے، جسے قانون یا خون کے رشتوں کی طرح نافذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ صرف دِلوں کے آزاد فیصلے سے جنم لیتی ہے۔
دوستی ایک غیر تحریری معاہدہ یا سادہ سا تعلق ہے، جس کا آغاز ایک ہی جگہ پڑوس، اسکول، کالج یا دفتر میں بارہا سامنے ہونے والی شناسائی سے ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ایسے باہمی روابط کے تواتر میں مسکراہٹوں کا تبادلہ، رسمی سلام دُعا ہی غیر رسمی مخلصانہ گفتگو میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یا پھر مشترکہ مشاغل، سرگرمیاں، دل چسپیاں یا کسی مشترکہ مقصد کا حصول بھی اِس کی بنیاد بن سکتے ہیں، جیسے پڑھائی، کھیل، مطالعہ، علم و ادب یا سیاست کا شوق وغیرہ، دو اجنبیوں کو گفتگو کا موضوع فراہم کر کے دوستی کا موقع دیتے ہیں۔
اگر سوچ اور مزاج میں مماثلت ہو یا حسِ مزاح اور زندگی کو دیکھنے کا زاویہ ایک جیسا ہو، تو ذہنی ہم آہنگی فوری طور پر پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات کسی مشکل صُورتِ حال میں اجنبیوں کا ایک دوسرے کا خیال رکھنا یا مدد کرنا، بھروسے کی شکل میں دیرپا دوستی کی ابتدا بن جاتا ہے۔ مختصراً یہ کہ انسانوں کے درمیان دوستی کا آغاز مشترکہ اقدار، یک ساں مفادات اور ملنے کے مواقع پر منحصر ہوتا ہے۔
پرانے زمانے میں دُور دراز علاقوں میں بسنے والے قلمی دوست بنائے جاتے تھے، جب کہ جدید دَور میں ٹیکنالوجی کی ترقّی نے اَن گنت’’ آن لائن فرینڈز‘‘ کی سہولت بھی مہیّا کی ہوئی ہے’’مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔‘‘ درحقیقت، اصل دوست کبھی’’آف لائن‘‘ نہیں ہوتا، ہمیشہ دست یاب رہتا ہے۔کشادہ دلی، مکتبِ دوستی کے ابتدائی اسباق میں اوّلین ہے کہ یہی وہ عُنصر ہے، جو مختلف افراد اور گروہوں میں ایک دوسرے کی قبولیت عام کرنے کے لیے ناگزیر ہے، کیوں کہ دوستی سے جُڑی وابستگی افراد کو کسی سے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے اُس کا نقطۂ نظر سُننے کی ہمّت دیتی اور مفاہمت کا راستہ کُھلا رکھتی ہے۔
دوستی زندگی کا ایک ایسا نقشہ تعمیر کرتی ہے، جہاں انڈر اسٹینڈنگ اور برداشت کی مدد سے ارد گرد بسنے والوں کے لیے بھی وسیع جگہ کی گنجائش نکل آتی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، دوستی مختلف پس منظر اور ثقافت کے حامل افراد کے مابین فاصلے کم کرتے پُل کا کام انجام دیتی ہے۔
دوستی، انسان کے عزیز ترین رشتوں میں سے ایک ہے اور یقیناً وہ شخص غریب ہے، جس کے پاس ایک بھی سچّا دوست نہ ہو۔ وفاداری نبھاتی اور اخلاقی ذمّے داری ادا کرتی دوستی، انسانی تنہائی اور نفسیاتی اُلجھنوں کے لیے مرہم ہے، کیوں کہ احباب وہ مضبوط جذباتی سہارے ہیں، جو زندگی متوازن کر کے پُرلطف بنا دیتے ہیں۔ اچھے ساتھی، انسان کو سماجی و ذہنی طور پر مستحکم کر کے مثبت تبدیلیوں کی جانب راغب کرتے ہیں اور مختلف العادات اور مختلف الاشغال دوستوں کا قریبی تعلق اور اُن سے نئی چیزیں سیکھنا، افراد کی شخصیت کو متنوّع اور دوسروں کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنا دیتا ہے۔
دوستی میں فاصلے کی اہمیت نہیں ہوتی، رفیقِ دیرینہ لازم نہیں کہ ہر وقت آپ کے ساتھ ہو، مگر اُس لمحے ضرور موجود ہو، جب اُس کی ضرورت ہو۔ زندگی میں صحیح دوستوں کا انتخاب بہت اہم ہے کہ یہ زندگی کا رُخ متعیّن کرتے ایسے عمل انگیز ہیں، جو کردار، اخلاق اور عادات پر گہرے اثرات مرتّب کرتے ہیں۔ بخاری و مسلم شریف میں حدیثِ نبویﷺ مروی ہے کہ’’نیک اور بُرے ساتھی کی مثال عطر فروش اور لوہار کی بھٹّی دہکانے والے جیسی ہے۔‘‘
یعنی عطر فروش کے پاس بیٹھنے سے خُوش بُو(نیک اور اچھی باتیں سیکھنے کو) ملتی ہیں، جب کہ بُرے ساتھی کے ساتھ بیٹھنے سے یا تو کپڑے جَل جاتے ہیں یا بدبُو آتی ہے ( یعنی بُرے انسان کی صحبت سے انسان کو نقصان اور ضرر پہنچتا ہے)۔ کہا جاتا ہے کہ پُرانے دوست سونے کی طرح ہوتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ دوست پوری زندگی ساتھ رہیں۔ زندگی کے مختلف مراحل پر نئی دوستیاں بنتی اور کچھ وقت و حالات کے تحت مدہم ہو جاتی ہیں، مگر اُن سے اُٹھایا گیا لُطف اور فیض برقرار رہتا ہے۔
بہترین دوست وہی ہے، جو اپنے دوست میں اچھائیاں تلاش کر سکے، مگر اس فطری کجی کا کیا کیا جائے کہ انسانوں کی اکثریت کے لیے دوست کی ناکامی پر اداس ہونا اتنا مشکل نہیں، جتنا اُس کی کام یابی پر خوش ہونا ہے۔ چینی کہاوت ہے کہ سچّے دوست وہ ستارے ہیں، جو اندھیرا ہونے پر چمکتے ہیں۔ دوستی ایک خالص اور شفّاف جذبہ ہے، جس میں مصلحت پسندی کی بجائے صرف سادگی اور سچّائی سے ساتھ دینے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے، جب ہی تو مرزا غالب نے کہا ہے کہ؎’’یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح…کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا۔‘‘
چوں کہ ادب و شاعری روزمرّہ کے تجربے، مشاہدے یا کیفیت کی ترسیل کا نام ہے، اِسی لیے ادباء نے دوستی کے رشتے میں نہاں مختلف رنگوں کی جُدا گانہ زاویوں سے صُورت گری کی ہے۔ پطرس بخاری دوستی کو بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ’’ایک دن مرزا صاحب اور مَیں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چُپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہو جائے، تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لُطف اندوز ہو سکتے ہیں۔‘‘
دوسری طرف، سجّاد حیدر یلدرم دہائی دیتے نظر آتے ہیں کہ’’مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ۔‘‘ بقول شخصے ’’دوستی اور دشمنی میں بنیادی فرق صرف نیّت کا ہے، جہاں دشمن پیٹھ پیچھے آپ کی بُرائیاں کرتے اور مذاق اُڑاتے ہیں، وہاں پرانے، بے تکّلف دوست دیدہ دلیری سے آپ کے سامنے آپ کا مذاق اُڑاتے اور بُرائیاں گنواتے ہیں۔‘‘ جیسے کہ دشمنی میں دو رنگی نہیں ہوتی، کاش! دوست بھی دشمنوں سے بے ریائی سیکھ لیں۔ ویسے دوستی میں منافقانہ روش جلد ہی بے نقاب ہو جاتی ہے اور ریاکارانہ طرزِ التفات بھی تا دیر اپنی جگہ نہیں بنا پاتا۔
اُردو زبان میں دوست اور دوستی کے موضوع پر ہونے والی شاعری کا طائرانہ جائزہ لیں، تو کلاسیکی دَور سے لے کر معاصر شعراء تک کے زبان زدِ عام اشعار کا تذکرہ ضروری ہے۔ جیسے؎’’غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست…مشغولِ حق ہوں، بندگی بوتراب میں‘‘ کہہ کر غالب نے دوستی کو نقطۂ کمال عطا کیا، تو الطاف حسین حالی دوستوں کی کم یابی کا نوحہ پڑھتے نظر آئے۔
؎ ’’آرہی ہے چاہِ یوسف سے صدا… دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت۔‘‘ حفیظ جالندھری کا دوستوں کے حق میں ندرتِ خیال بھی خُوب ہے۔؎ ’’دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا ربّ… میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں۔‘‘احمد فراز خُود کو سمجھانے کی کوشش میں لگے ہیں کہ ؎’’تم تکّلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز…دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔‘‘اِس کے باوجود بھی صحبتِ یاراں سے گریزاں نہیں ہیں۔؎’’قربت بہت عزیز ہے اُس کی مگر فراز…جی چاہتا ہے، صحبتِ یاراں ضرور ہو۔‘‘
مجید امجد برملا اعلان کرتے ہیں۔؎’’مسیح وخضر کی عُمریں نثار ہوں اس پر…وہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے۔‘‘پیرزادہ قاسم صدیقی فی زمانہ دوستی کی حقیقت یوں بیان کرتے ہیں۔ ؎’’اب رہ و رسم دوستی بس یہی ہو کے رہ گئی…کوئی فریب دے سکے، کوئی فریب کھا سکے۔‘‘مگر اُنہوں نے حقِ دوستی ادا کرنے کی راہ بھی خُوب نکالی۔؎’’مَیں بھی بہ پاس دوستاں اپنے خلاف ہو گیا…اب یہ ہی رسمِ دوستی مجھ کو بھی راس آگئی۔‘‘
محمود شارب احوالِ واقعی کہتے ہیں کہ ؎’’میرا خلوص تصنّع، میرا سلوک فریب…کرے گا کوئی بھلا مجھ سے دوستی کیسے۔‘‘پروین شاکر دل کا تذبذب زبان پر لے آئیں۔؎’’دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں…دیکھنا ہے، کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون۔‘‘خاطر غزنوی رفیقوں کو الگ ہی انداز میں دیکھتے ہیں۔؎’’عجب ہے قافلۂ دوستاں بہم نہ جُدا…کہ ہم سفر ہیں، مگر منزلیں جُدا سب کی۔‘‘محسن نقوی اپنے دل کو مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ ؎’’اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے…تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر۔‘‘کنور مہندر سنگھ بیدی سحر آخر کار اِس نتیجے پر پہنچے کہ ؎’’دوست کی باتیں کرتے کرتے…کیوں پہنچیں ہم عیب و ہنر تک۔‘‘
اختر عثمان دوستوں سے متعلق فیصلہ یوں سُناتے ہیں کہ ؎’’مَیں اُنہی سے ہوں، اُنہی میں ہوں، رہوں گا اُن میں…میری ذلّت، میری عزّت، میری خامی، میرے دوست۔‘‘انور شعور دوستی کو اپنا تعارف قرار دیتے ہیں۔؎’’دوست کہتا ہوں تمہیں، شاعر نہیں کہتا شعور…دوستی اپنی جگہ ہے، شاعری اپنی جگہ۔‘‘وصی شاہ بسلسلۂ دوستاں اپنے ہی اعتبار سے شاکی ہیں۔؎’’دشمن کے بس کی بات کہاں تھی یہ دوستا…میرا تو اعتبار گیا، اعتبار میں۔‘‘اور عباس تابش کی حضورِ دوست عاجزی بھی ملاحظہ ہو۔؎’’میری کوشش ہے کہ مَیں دل نہ دُکھاؤں تیرا… پھر بھی اے دوست کوئی بات اگر ہو جائے۔‘‘
مصروف زندگی میں یہ دن اپنے پرانے سنگی ساتھیوں، یار بیلیوں یا سہیلیوں سے ملاقات کا ایک بہانہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مل کر کھانا پینا اور رفتہ کی خُوب صُورت یادیں دُہرانا زندگی کی خوش گواریت میں اضافہ کر دے گا۔ وگرنہ فون پر رابطہ یا سوشل میڈیا پر میسیج بھی پرانی رفاقتیں تازہ کر سکتا ہے، ساتھ ہی ساتھ نئے دوستوں سے مل کر اُن کے قصّے سُننا بھی دل چسپ تجربہ ہو سکتا ہے، مگر دھیان رہے۔؎’’خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دَم…انیس ٹھیس نہ لگ جائے، آبگینوں کو۔‘‘