پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، زرعی استعداد، جغرافیائی اہمیت اور کاروباری امکانات جیسے بے شمار مواقع موجود ہیں، تو دوسری جانب منہگائی، بے روزگاری، غربت، معاشی غیر یقینی، کم زور شہری منصوبہ بندی اور سماجی بے چینی جیسے سنگین چیلنجز بھی حقیقت کا رُوپ دھار چُکے ہیں۔
اس موقعے پر یہ سوال اہم نہیں کہ مُلک کو کن مسائل کا سامنا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان مسائل کو وقتی بُحران سمجھ کر نظر انداز کرتے رہیں گے یا انہیں قومی اصلاحی ایجنڈے میں شامل کریں گے؟ یاد رہے، کسی بھی مُلک کی ترقّی کا سب سے معتبر پیمانہ عام آدمی کا معیارِ زندگی ہوتا ہے۔
اگر ایک مزدور کی آمدنی سے اس کے گھر کے اخراجات پورے نہ ہو سکیں، ایک سرکاری ملازم مہینے کے آخر میں قرض لینے پر مجبور ہو، ایک معمولی دُکان دار بڑھتے اخراجات اور کم ہوتی قوتِ خرید کے باعث پریشان ہو اور ایک تعلیم یافتہ نوجوان برسوں ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہے، تو ایسے حالات میں ترقّی کے دعوے عوام کی زندگی سے ہم آہنگ محسوس نہیں ہوتے اور یہ صُورتِ حال پاکستان کے کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں۔
گرچہ حیدرآباد کا شمار صوبۂ سندھ کے قدیم علمی، تجارتی اور ثقافتی مراکز میں ہوتا ہے لیکن آج یہاں بھی شہری انفرااسٹرکچر، ٹریفک، صاف پانی، نکاسیٔ آب، صحت، تعلیم، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کے حوالے سے ایسے مسائل موجود ہیں، جو شہریوں کی زندگیاں بُری طرح متاثر کر رہے ہیں اور یہی منظرنامہ سندھ کے دیگر شہروں کا بھی ہے، جب کہ مُلک کے بڑے شہروں کو بھی آبادی کے دباؤ، وسائل کی کمی اور بے ہنگم شہری توسیع جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ہرچند کہ دُنیا کے کئی ممالک نے ماضی میں ایسے ہی مسائل کا سامنا کیا، مگر انہوں نے طویل المدتی منصوبہ بندی، تعلیم میں سرمایہ کاری، صنعتوں کےفروغ، مقامی حکومتوں کے استحکام، شفّاف طرزِ حُکم رانی اور نوجوانوں کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کی مؤثر پالیسیوں کے ذریعے اپنی سمت بدل لی۔ جنوبی کوریا، سنگاپوراورملائیشیا اس کی نمایاں مثالیں ہیں، جہاں انسانی وسائل کو سب سے بڑی قومی طاقت سمجھا گیا۔
اس کے برعکس، جن ممالک میں معاشی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی استحکام کم زور رہا، وہاں بے روزگاری، غُربت اور سماجی بے چینی نے ترقّی کی رفتار سُست کر دی۔ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی اُمید اس کی نوجوان آبادی ہے، لیکن اگر یہی نوجوان معیاری تعلیم، ہُنر، روزگار اور کاروباری مواقع سے محروم رہے، تو یہی قوت مستقبل میں ایک بڑا سماجی اور معاشی چیلنج بن سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف معاشی اعداد و شمار پر اکتفا نہ کریں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ ان پالیسیوں کے اثرات عام شہریوں، طلبہ، چھوٹے کاروباری اور متوسّط طبقے کی زندگی پر کس صُورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
ہوش رُبا منہگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں چھوٹے کاروباری افراد، دُکان دار، ہُنرمند اور گھریلو صنعتوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ بڑے سرمایہ کار کسی نہ کسی حد تک معاشی جھٹکے برداشت کر لیتے ہیں، لیکن محدود سرمائے سے کاروبار کرنے والے افراد کے لیے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی و گیس کے بڑھتے نرخ، ٹیکسز کا بوجھ، بلند شرحِ سود اور صارفین کی کم ہوتی قوتِ خرید کاروبار جاری رکھنا ایک مسلسل امتحان بنا دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ متعدّد چھوٹےکاروبار یا تو سُکڑ گئے ہیں یا مکمل طور پر بند ہو چُکے ہیں، جس کےنتیجےمیں مزید بے روزگاری نے جنم لیا۔ یاد رہے، یہ صورتِ حال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دُنیا کے کئی اور ممالک نے بھی کورونا کی عالم گیروبا، بین الاقوامی تنازعات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث معاشی دباؤ کا سامنا کیا، مگر فرق یہ ہے کہ بہت سے ممالک نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم اِیز) کو سَستے قرضوں، ٹیکس میں رعایت، ڈیجیٹل سہولتوں، برآمدی مراعات اور آسان کاروباری قوانین کے ذریعے سہارا دیا۔
مثال کے طور پر جنوبی کوریا، ملائیشیا اور سنگاپور نے چھوٹے کاروباروں کو معیشت کا بنیادی ستون بنایا، جب کہ جرمنی میں ’’مِٹل شٹانڈ‘‘ (Mittelstand) کہلانے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار آج بھی معیشت اور روزگار کا اہم محرک سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر اس شعبے کو مؤثر سرپرستی ملے، تو لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہےکہ غُربت کا مسئلہ بھی صرف آمدنی کی کمی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات صحت، تعلیم، غذائیت، سماجی استحکام اور آئندہ نسلوں کے مستقبل تک پھیل جاتے ہیں۔ جب ایک خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصّہ خوراک اور یوٹیلیٹی بِلز پر خرچ کرنے پر مجبور ہوجائے، تو بچّوں کی تعلیم، بہتر علاج اور ہُنر ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ جب معاشی بحران، سماجی بُحران میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری مراکز میں یہ منظر روزانہ دیکھا جا سکتا ہے۔ بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں پہلی سی نہیں رہیں۔ خریداری کا رجحان کم ہوگیا ہے اور نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں کراچی، اسلام آباد یا بیرونِ مُلک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں، جب کہ چھوٹے صنعت کار اور تاجر اپنے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں۔
گرچہ یہ مسائل مقامی دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی جڑیں قومی معاشی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے ماحول، توانائی کی لاگت، مالیاتی استحکام اور انتظامی صلاحیت سے جڑی ہوئی ہیں اور معاشی ترقّی کا اصل مطلب ایسے مواقع پیدا کرنا ہے کہ جن سے عام شہری کا معیارِ زندگی بہتر ہو، نوجوانوں کو باعزّت روزگار ملے، کاروباری طبقہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرے اور متوسّط طبقہ مسلسل معاشی دباؤ کا شکار نہ رہے۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان جامعات، کالجز اور فنی اداروں سے فارغ التحصیل ہوکرعملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ ان میں انجینئرز، ڈاکٹرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، بزنس گریجویٹس اور سماجی علوم کے ماہرین شامل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد کو اپنی تعلیم اور مہارت کے مطابق روزگار نہیں مل پاتا۔ نتیجتاً، کئی نوجوان اپنی قابلیت سے کم درجے کی ملازمت قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جب کہ بہت سے بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ مُلک جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ رجحان محض معاشی نقصان نہیں بلکہ قومی سرمائے کے زیاں کا باعث بھی بنتا ہے۔
ایک نوجوان کی تعلیم پر خاندان اور ریاست برسوں سرمایہ کاری کرتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی صلاحیتیں کسی دوسرے مُلک کی ترقّی کے لیےاستعمال کرتا ہے، تو اس عمل کو ’’برین ڈرین‘‘ کہا جاتا ہے، جو آج ایک بہت بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، حالاں کہ اس کے برعکس کئی ممالک نے نوجوانوں کو بوجھ نہیں بلکہ ترقّی کا محرک سمجھا۔ جنوبی کوریا نے تعلیم اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی۔ سنگاپور نے مہارت، شفّاف حُکم رانی اور کاروبار دوست ماحول پیدا کیا۔
ملائیشیا نے صنعتی ترقّی اور فنی تربیت کو فروغ دیا، جب کہ تُرکیے نے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی سرپرستی کر کے لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ یوں ان ممالک نے یہ ثابت کیا کہ قدرتی وسائل سے زیادہ اہم انسانی وسائل ہوتے ہیں۔ واضح رہے، پاکستان کا مسئلہ صرف بےروزگاری ہی نہیں بلکہ مہارتوں اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فاصلہ بھی ترقّی میں ایک بڑی رُکاوٹ ہے۔
کئی شعبوں میں ہُنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن تعلیمی نظام اورصنعت کےدرمیان مؤثر رابطہ نہ ہونے کے باعث نوجوان ان مواقع سے فائدہ نہیں اُٹھا پاتے۔ یہی وجہ ہےکہ ایک طرف بےروزگار نوجوان موجود ہیں، تو دوسری طرف متعدّد شعبے مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے سماجی اثرات بھی کم تشویش ناک نہیں، کیوں کہ جب کوئی نوجوان طویل عرصے تک روزگار سے محروم رہتا ہے، تو اس کی خُود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔
خاندانی دباؤ بڑھتا ہے، شادی بیاہ جیسے اہم معاملات مؤخر ہوتے ہیں، ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات مایوسی معاشرتی بےچینی کو جنم دیتی ہے۔ اسی لیے ترقّی یافتہ ممالک نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو صرف روزگار ہی سے نہیں بلکہ قومی سلامتی، سماجی استحکام اور معاشی ترقی سے بھی منسلک کرتے ہیں۔
اگر ہم نے بھی تعلیم، ہُنر، صنعت، تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور کاروباری مواقع کے درمیان مضبوط ربط قائم کر لیا، تو یہی نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے، تو برین ڈرین، بےروزگاری اور سماجی دباؤ آنے والے برسوں میں مزید سنگین صُورت اختیار کر سکتے ہیں۔
مُلک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ تاثر ہرگز نہیں دینا چاہیے کہ یہاں صرف مسائل ہی مسائل ہیں، حقیقتاً ہر بُحران میں مواقع بھی پوشیدہ ہوتے ہیں، بشرطیکہ ریاست، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مل کر طویل المدّتی اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اختیار کریں۔ دُنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے مشکل حالات کا مقابلہ اصلاحات، جدّت اور بہتر طرزِ حُکم رانی سے کیا، وہی آگے بڑھیں۔
آج پاکستان کو بھی ایسے ہی فیصلوں کی ضرورت ہے کہ جو وقتی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوں۔ آج معیشت کو استحکام دینے کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو آسان قرضے، ٹیکس میں سہولتیں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ناگزیر ہوچُکا ہے، جب کہ تعلیم کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ بنانے کی بجائے صنعت، تحقیق، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، زرعی جدّت اور فنی مہارتوں سے جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چُکا ہے۔
اِسی طرح مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائے بغیر بھی شہری مسائل کا پائے دار حل ممکن نہیں۔ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپور خاص اور کراچی سمیت مُلک کے کسی بھی شہر میں عوام کو صاف پانی، بہتر نکاسیٔ آب، معیاری سڑکوں، مؤثر ٹریفک سسٹم، سرسبز عوامی مقامات اور معیاری صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ترقّی کابنیادی تقاضا ہے۔ اگر شہروں کی منصوبہ بندی آبادی میں اضافے اور مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر نہ کی گئی، تو آنے والے برسوں میں یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتےہیں۔
ایک اوراہم حقیقت یہ ہےکہ معاشی تعمیروترقّی صرف حکومت کی ذمّےداری نہیں۔ اس ضمن میں کاروباری برادری، صنعت کاروں، جامعات، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور خُود شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیانت داری، قانون کی پاس داری، ٹیکس سسٹم پر اعتماد، تحقیق، اختراع اور سماجی ذمّےداری کا فروغ وہ عناصر ہیں،جو کسی بھی قوم کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس قوم نے ہر مشکل وقت میں غیر معمولی صلاحیت، محنت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
تاہم، ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ان تمام صلاحیتوں کو ایک ایسی قومی حکمتِ عملی کے تحت یک جا کیا جائے کہ جو تسلسل، شفّافیت اور میرٹ پرمبنی ہو۔ تیزی سے بدلتےعالمی حالات میں وہی ممالک آگےبڑھ رہے ہیں، جو انسانی سرمائے، علم، ٹیکنالوجی، اختراع اور مضبوط اداروں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ریاستِ پاکستان بھی اگر اپنے نوجوانوں پر اعتماد کرے، چھوٹے کاروباروں کو معیشت کا ستون سمجھے، تعلیم اور صنعت کو ایک دوسرے سے مربوط کرے اور شہری سہولتوں کو قومی ترجیحات میں شامل کرے، تو موجودہ چیلنجز کو کام یابی میں بدلا جا سکتا ہے اور اس ضمن میں مُلک کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دینِ اسلام نے ایک مضبوط، منصفانہ اور خوش حال معاشرے کی بنیاد عدل، دیانت، امانت، محنت، علم، مشاورت اور انسانی حقوق کی ادائی پررکھی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’بے شک اللہ انصاف، نیکی اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ النحل، 90) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’تم میں سے ہر شخص ذمّےدار ہے اور ہر ایک سے اُس کی ذمّے داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
اگر ہم اسلامی اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی، طرزِ حُکم رانی، معیشت، تعلیم اور سماجی رویّوں کا حصّہ بنا لیں، تو پاکستان کو درپیش بہت سے مسائل کے حل کی بنیاد خُود بخود مضبوط ہوسکتی ہے۔ قوموں کی ترقّی صرف وسائل میں نہیں بلکہ کردار، انصاف، دیانت دارقیادت اوراجتماعی ذمّےداری کے احساس میں مضمر ہے اور یہی وہ راستہ ہے، جو ایک باوقار، مستحکم اور خوش حال پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔
دنیا کے ممتاز ماہرِ انتظام (Management Expert) اور جدید انتظامی فکر کے بانیوں میں شمار ہونے والے Peter Drucker کا یہ قول آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ ’’مستقبل کی پیش گوئی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُسے خُود تعمیر کیا جائے۔‘‘ پاکستان کے پاس باصلاحیت نوجوان، زرخیز زمین، قدرتی وسائل، کاروباری صلاحیت اور بےشمار مواقع موجود ہیں۔
ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم وقتی سیاسی اور معاشی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایسی قومی حکمتِ عملی اختیار کریں کہ جس کی بنیاد تعلیم، ہُنر، شفّاف طرزِ حُکم رانی، مضبوط اداروں، اختراع اور میرٹ پر ہو۔ اگر ہم آج دُرست سمت کا انتخاب کر لیں، تو آنے والی نسلیں ایک ایسے پاکستان کی وارث ہوں گی، جہاں ترقّی صرف معاشی اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ہر گھر میں دکھائی دے گی اور یہی وہ راستہ ہے، جو ’’بدلتے پاکستان‘‘ کو گوناگوں مسائل سے نکال کر ایک باوقار، مستحکم اور خوش حال مستقبل کی جانب گام زن کر سکتا ہے۔