تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) برطانوی خبررساں ایجنسی کےمطابق قطرکا ایک مذاکراتی وفد امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت جمعہ کو تہران پہنچاہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ‘ پاکستان نے قابل تحسین کام کیاہے‘ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن معاہدے کیلئے ابھی مزید کام کرنا باقی ہے‘ امید ہے جلد معاہدہ طے پا جائے گا‘ہماراسامنا بہت مشکل لوگوں سے ہے ‘ہرمزکھولنے کیلئے پلان بی ضروری ہے جبکہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران معاہدہ کرنے کیلئے بے چین ہے‘دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ‘ اماراتی صدرکے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ امریکا ایران امن معاہدے کے ففٹی ففٹی امکانات ہیں ۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں تاہم یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہےجبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کاکہنا ہے کہ فیلڈمارشل کے دورے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی اہم موڑ یا فیصلہ کن صورتحال پر پہنچ چکے ہیں‘اگر امریکا نے یورینیم حوالگی کا مطالبہ کیاتوکوئی ڈیل نہیں ہوگی ‘یہ مطالبہ ناقابل قبول ہے ‘واشنگٹن کے ساتھ گہرے اختلافات اب بھی برقرار ہیں‘امن مذاکرات کامیابی کے قریب نہیں ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ ہفتوں یا مہینوں میں کوئی معاہدہ طے پا جائے گا‘ادھر یورپی یونین نے ہرمز کی ناکہ بندی پر ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں کرلیں ۔ تفصیلات کے مطابق سویڈن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیوکا کہنا تھا کہ امریکا ایران معاملے میں بنیادی ثالث پاکستان ہی رہا ہے اور انہوں نے قابل تحسین کام کیا ہے‘ ہم ان تمام معاملات پر ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور آگے بھی ایسا ہی رہے گا۔مارکوروبیوکا مزیدکہنا تھا کہ بات چیت میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن ابھی مزید کام کرنا باقی ہے‘ ہم ابھی تک حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے‘مجھے امید ہے کہ ہم وہاں پہنچ جائیں گے لیکن ایسا نہ ہونا بھی ممکن ہے‘ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذکرنے کا ایرانی منصوبہ ناقابل قبول ہے ۔ ہماراسامنا بہت مشکل لوگوں کے گروہ سے ہے اور اگر صورتحال تبدیل نہیں ہوتی تو صدر واضح کر چکے ہیں کہ ان کے پاس دیگر آپشنز موجود ہیں۔ان کا یہ بھی کہناتھاکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر نیٹو کے فوجی اتحاد سے مدد نہیں مانگی ہے لیکن اگر ایران اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے سے انکار کرتا ہے تو ایک ’’پلان بی‘‘ہونا ضروری ہے‘ادھر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں صدرٹرمپ کا کہنا تھاکہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے‘ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے لیکن ہم نے ان پر سخت وار کیا اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ ہمارے پاس دنیا کی عظیم ترین فوج ہے۔دوسری جانب اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اگر ہم افزودہ یورینیم سے متعلق تفصیلات میں جانے کی کوشش کریں گے تو ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔اس وقت قطر کا ایک وفد عباس عراقچی کے ساتھ بات چیت کر رہا ہےجبکہ پاکستان ان مذاکرات میں اب بھی بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے‘واشنگٹن کے ساتھ گہرے اختلافات اب بھی برقرار ہیں‘امن مذاکرات کامیابی کے قریب نہیں ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا کوئی معاہدہ ہفتوں یا مہینوں میں طے پا جائے گا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں معاہدہ قریب ہو۔ ادھر عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں تاہم ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے۔