• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم نے ڈی جی انٹیلی جنس بیورو کی ملازمت میں 4 سال کی توسیع کردی

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ، آصف محمود بٹ) وزیر اعظم شہباز شریف نےموجودہ ڈی جی انٹیلی جنس بیورو ( IB) فواد اسد اللہ خان کی ملازمت میں چار سال کی توسیع کردی ہے۔ وزیر اعظم نےان کی چار سال کے کنٹریکٹ پر بطور ایڈیشنل آئی جی آئی بی تقرری کردی ہے۔یہ تقرری گریڈ22میں کی گئی ہے۔ تقرری 14جو لائی 2026سے موثر ہوگی ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کی تقرری کا نو ٹیفیکیشن جا ری کردیا ۔ دریں اثنا وزیر اعظم نے فواد اسداللہ خان کی بطور ڈی جی آئی بی فرائض کی انجام دہی جاری رکھنے کی منظوری دی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے انکی بطور ڈی جی تقرری کا الگ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ اس نو ٹیفیکیشن کے تحت ان کی بطور ڈی جی تقرری تا حکم ثانی موثر رہے گی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ فواد اسد اللہ خان 2023میں ر یٹائر ہوگئے تھے لیکن ریٹائر منٹ کے بعد وزیر اعظم نے ان کی بطور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو تقرری کی منظوری دی تھی۔ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن 15جو لائی 2023کو ہو اتھا۔ اس وقت بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے فواد اسد اللّٰہ خان کو کنٹریکٹ پر ایڈیشنل ڈی جی تعینات کرنے اور ڈی جی آئی بی مقرر کرنے کے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کئے گئے تھے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فواد اسد اللّٰہ خان کو 3 سال کیلئے کنٹریکٹ پر گریڈ 22 میں ایڈیشنل ڈی جی تعینات کر کے ڈی جی آئی بی مقرر کیا گیا تھا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے وابستہ ذریعے کے مطابق آئی بی آئینی ادارہ ہے لہذا کنٹریکٹ پر براہِ راست ڈی جی کا تقرر نہیں کیا جا سکتا لہذا فواد اسد اللّٰہ خان کو کنٹریکٹ پر ایڈیشنل ڈی جی تعینات کر کے اُنہیں ڈی جی مقرر کیا گیا ، فواد اسد اللّٰہ خان ریٹائرمنٹ تک بھی ڈی جی انٹیلیجنس بیورو تعینات تھے۔ لاہور   سے آصف محمود بٹ    نےسرکاری ذرائع کے  حوالے بتایا کہ  یہ فیصلہ ملک کے اندرونی سلامتی کے نظام میں تسلسل برقرار رکھنے اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے تناظر میں ادارہ جاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان کو جس نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں دہشت گردی کے خطرات، منظم جرائم، سرحد پار سرگرمیاں اور معاشی عدم استحکام جیسے عوامل شامل ہیں، جن کے باعث انٹیلی جنس اداروں میں قیادت کا تسلسل انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے دوران انٹیلی جنس بیورو کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی، خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور معاشی سلامتی سے متعلق نگرانی کے شعبوں میں ادارے کی کارکردگی کو مثبت قرار دیا گیا۔ حکومتی رائے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حساس اداروں میں بار بار قیادت کی تبدیلی سے نہ صرف پالیسی کا تسلسل متاثر ہوتا ہے بلکہ آپریشنل کارکردگی پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق انٹیلی جنس بیورو نے حوالہ ہنڈی، منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، ذخیرہ اندوزی، کھاد اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ، غیر قانونی تیل کی تجارت اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک بڑی کارروائی میں مبینہ منشیات کے نیٹ ورک کے سرغنہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس پر مختلف شہروں میں منظم طریقے سے منشیات کی ترسیل اور مالی نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا۔ اسی طرح انسانی اسمگلنگ کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کے سرغنہ عثمان ججہ کی گرفتاری کو بھی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا، جو شہریوں کو غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک بھجوانے میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس توسیع کے بعد ادارے کی قیادت کے سامنے ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو بدلتے ہوئے خطرات، سائبر چیلنجز اور فوری ردعمل پر مبنی انٹیلی جنس نظام کی ضرورت درپیش ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ادارے کی کارکردگی پر اعتماد اور قومی سلامتی کے نظام میں تسلسل کو برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید