بغداد (اے ایف پی) عراق کے بااثر مسلح گروپ ’’کتائب حزب اللہ‘‘ نے ہفتے کے روز اپنی ’’جہادی سرگرمیاں‘‘ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بغداد کو ایران نواز دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے امریکہ کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ فروری کے آخر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد،عراق میں اسلامی مزاحمت کے بینر تلے سرگرم گروپوں نے ملک میں امریکی مفادات پر بار بار ڈرون اور راکٹ حملے کیے۔ جواب میں، واشنگٹن نے ان گروپوں کی تنصیبات اور ٹھکانوں پر بمباری کی، جن میں کتائب حزب اللہ بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں ان کے درجنوں ارکان جاں بحق ہو گئے۔ مئی کے وسط میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے ہتھیاروں کو صرف ریاست کے کنٹرول تک محدود رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ لیکن ہفتے کے روز ایک بیان میں، کتائب حزب اللہ کے سیکورٹی چیف ابو مجاہد العساف نے کہا کہ ’’جہادی سرگرمیاں آج ایک اجتماعی ذمہ داری ہیں، اور ہم ان بھائیوں کی طرف سے یہ فریضہ سرانجام دیں گے جنہوں نے اسے ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘