نئی دہلی (صباح نیوز) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا 113 سالہ تاریخی دہلی جم خانہ کلب اپنے وجود کے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کلب کو خالی کرنے کے حکم کے بعد اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، صفدر جنگ روڈ پر واقع دہلی جم خانہ طویل عرصے سے بھارتی دارالحکومت کی سیاسی، سفارتی اور سماجی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا رہا ہے،کلب کی سب سے اہم تاریخی حیثیت 1947 کی تقسیمِ ہند سے وابستہ ہے، تاریخی روایات کے مطابق برطانوی ہند کی فوج کی تقسیم سے قبل انہی ہالز اور برآمدوں میں ان فوجی افسران کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی تھی جو بعد میں پاکستان اور بھارت کی الگ الگ افواج کا حصہ بننے والے تھے، یہ وہ آخری موقع تھا جب کئی افسران نے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارا، اس سے پہلے کہ نئی سرحدیں انہیں دو مختلف ممالک میں تقسیم کر دیتیں،یہی وجہ ہے کہ کلب کی ممکنہ بندش کو محض ایک عمارت یا ادارے کا خاتمہ نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، برطانوی راج کے آخری برسوں اور آزادی کے ابتدائی عشروں میں یہ کلب دہلی کی سیاسی زندگی کا اہم مرکز رہا۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت جو اس 27.3 ایکڑ اراضی کی مالک ہے، نے کلب کو 5 جون تک زمین خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ علاقہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ایک انتہائی حساس اور اسٹریٹجک زون ہے، جسے دفاعی انفراسٹرکچر اور عوامی سلامتی کے دیگر اہم مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔