کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا سے ممکنہ معاہدے کے خلاف ایرانی سخت گیر دھڑا متحرک ، ریلیوں اور سرکاری میڈیا کے ذریعے مخالفت تیز کر دی،مذاکراتی عمل کو ناکام قرار دینے کی مہم جاری ،صدر پزشکیان نےسرکاری ٹی وی پر اختلافات کوہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ علی خامنہ ای بھی مذاکرات کے حامی تھے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے دوران ایران کے سخت گیر سیاسی دھڑے نے مذاکراتی عمل کی کھل کر مخالفت شروع کر دی ہے۔ پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کونسل میں نمائندگی رکھنے والا یہ نسبتاً چھوٹا مگر بااثر گروپ ریلیوں، سرکاری میڈیا اور عوامی و نجی بیانات کے ذریعے امریکا کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم اس کے اعلان یا حتمی منظوری کے بارے میں ابھی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو سرکاری ٹیلی وژن کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں ادارے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے خلاف فضا پیدا کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی مذاکرات کی میز پر جانے کے حامی تھے، لیکن اب سرکاری میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔