• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ شرائط، ایرانی انتباہ، امریکی صدر نے نئی شرائط بھیج دیں، امریکا پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، ایران

تہران (اے ایف پی، جنگ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے ایران کیساتھ معاہدے کیلئے تجاویز کی شرائط مزید سخت کردی ہیں،ٹرمپ نے نئی شرائط ایران کو بھیج دیں،امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز اور ایکسیوس نےرپورٹ دی ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے غور و خوض کیلئے ایک نیا "سخت" فریم ورک واپس بھیجا ہے،تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں،امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے گارنٹی مل گئی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا ،ایران کو کسی بھی جوہری ہتھیار کی تیاری سے روکنا اور آبنائے ہرمز کی شپنگ لین کو دوبارہ کھولنا ترجیحات میں شامل ہے،ایران نے نئی شرائط کے بعد انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ امریکا پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا جو ایرانی حقوق کو مکمل طور پر تحفظ نہ دیتا ہو،ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی فوجی ڈرون کو مار گرایا ہے جو "ایران کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونے والا تھا"، تاہم واشنگٹن نے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے،دوسری جانب ایران کی پارس آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے اتوار کو سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ میں تین آف شور (سمندری) پلیٹ فارمز پر گیس کی پیداوار بحال کر دی ہے،ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے،عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ہمیں قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک ہم کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، تب تک ہم مذاکرات کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے،ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے مذاکراتکے مجوزہ مسودے میں نئی ترامیم سامنے لائے گا ، تسنیم نےذرائع کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران نے انہیں تسلیم کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور یو ٹرن لیتےہوئے ایران کے ساتھ معاہدے پر جلد فیصلے کے بعد ذہن تبدیل کر لیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو تبدیل شدہ سخت تجاویز بھیج دی گئی ہیں، نئی تجاویز کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہےکہ وہ پہلےسےتیارفریم ورک پرجلدراضی ہو جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بہو لارا ٹرمپ کے فاکس نیوز شو پر انٹرویو کے دوران کہا، "ایک ضمانت جو مجھے لازمی چاہیے وہ یہ ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ وہ اس پر راضی ہو گئے ہیں، اور یہ بہت دلچسپ تھا۔"لیکن تہران نے ماضی میں ٹرمپ کے دعووں پر شک کا اظہار کیا ہے اور فریقین اہم مسائل پر اب بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ قاليباف نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں کہا، "ہم کسی بھی معاہدے کی توثیق اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے دوبارہ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں، امریکا کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ٹھوس نتائج کے بغیر نہیں ہوگا۔"تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، "ایک ممکنہ مفاہمت کی یادداشت کے متن کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان تبادلے جاری ہیں، اور فریقین باقاعدگی سے ترامیم تجویز کر رہے ہیں۔"رپورٹ میں کہا گیا کہ "ابھی تک کوئی معاہدہ حتمی نہیں ہوا، اور یہ ممکن ہے کہ کسی بھی معاہدے کو مسترد کر دیا جائے۔"ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران نے کہا ہے کہ اپنے جوہری پروگرام پر ٹھوس بات چیت شروع کرنے سے پہلے اسے 12ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی کی ضرورت ہے، اور ٹرمپ کے اس پچھلے بیان کو "بے بنیاد" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے کہ اس کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تباہ کر دیا جائے گا۔تہران نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ جاری لڑائی کے باوجود لبنان کو کسی بھی معاہدے میں شامل کیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید