کراچی (سید محمد عسکری) وفاقی حکومت کی جانب سے5 جون 2026 کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا جاری اخراجات کا بجٹ گزشتہ آٹھ برس سے 65ارب روپے پر منجمد ہے، حالانکہ اس دوران اساتذہ کی تنخواہوں میں 170 فیصد اضافہ، توانائی کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ اور طلبہ کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2017-18میں ایچ ای سی کا جاری اخراجات کا بجٹ 65ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جو آج تک برقرار ہے۔ تاہم مہنگائی اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث اس بجٹ کی حقیقی مالیت تقریباً نصف رہ گئی ہے اور اس کی مؤثر قدر اب صرف 32ارب روپے کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے تدریسی معیار، تحقیق، تعلیمی سرگرمیوں اور جامعات کے انتظامی امور کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس وقت ملک کی 157سے زائد سرکاری جامعات اور ان کے 94 سب کیمپسز و مراکز میں زیر تعلیم تقریباً 21 لاکھ طلبہ براہ راست اس گرانٹ پر انحصار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کی مجموعی تعداد 14لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 30لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنی مالی معاونت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ صوبائی جامعات کے جاری اخراجات کے بجٹ میں مالی سال 2017-18کے 9ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2025-26میں اضافہ ہو کر 75.94ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کا حصہ تقریباً 40.58ارب روپے پر جمود کا شکار ہے۔ اس کے برعکس 2017-18 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مجموعی گرانٹ 38.94 ارب روپے تھی۔جامعات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اخراجات اور آمدن کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے کئی بڑی سرکاری جامعات کو مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ بعض ادارے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ کچھ جامعات میں تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مالی بحران کے پیش نظر ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الحق نے وفاقی حکومت سے مالی سال 2026-27 کے لیے جاری اخراجات کا بجٹ بڑھا کر 100 ارب روپے کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کا معیار مزید تنزلی کا شکار ہو جائے گا۔ دریں اثنا فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فاپواسا) نے صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ سمیت اعلیٰ حکومتی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں۔فاپواسا کے وفاقی صدر پروفیسر ڈاکٹر عامر علی نے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ جامعات اور طلبہ کی تعداد میں کئی گنا اضافے کے باوجود فنڈنگ میں جمود نے تعلیمی معیار، تحقیق، باصلاحیت اساتذہ کے تحفظ اور مجموعی ادارہ جاتی کارکردگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔فاپواسا نے ایچ ای سی کے جاری اور ترقیاتی بجٹ میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) کے اساتذہ کی طویل عرصے سے زیر التوا تنخواہوں میں اضافے کی فوری منظوری، وفات کی صورت میں مراعات کی فراہمی، اساتذہ کے لیے ٹیکس ریبیٹ کی بحالی اور بی پی ایس اساتذہ کے لیے 2022 سے التوا کا شکار یکساں ترقیاتی پالیسی کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔فاپواسا کے مطابق اساتذہ کے لیے ٹیکس رعایت بتدریج 75 فیصد سے کم ہو کر 2025 تک مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں تدریسی شعبے سے وابستہ افراد پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور علمی انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پاکستان کی سائنسی ترقی، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ فاپواسا نے خبردار کیا کہ مسلسل مالی مشکلات، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافہ اور پالیسی سازی میں تاخیر نے جامعات کے اساتذہ اور محققین میں بے چینی اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔