• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لبنان کا الشقیف قلعہ 900 سال قبل تعمیر ہوا عیسائیوں کا مضبوط مرکز تھا، یہ قلعہ فلسطینی مزاحمت سے اسرائیل، لبنان تنازع تک جدید و قدیم تاریح کا گواہ رہا ہے

کراچی (نیوز ڈیسک)لبنان کا الشقیف قلعہ 900 سال قبل تعمیر ہوا ،عیسائیوں کا مضبوط مرکز تھا ،یہ قلعہ فلسطینی مزاحمت سے اسرائیل ،لبنان تنازع تک جدید و قدیم تاریح کا گواہ رہا ہے ۔یروشلم کے بادشاہ فلک نے 1139میں الشقیف قلعہ تعمیر کیا ،صلیبیوں کے مضبوط مراکز میں شمار ہوتا تھا ،سلطان صلاح الدین ایوبی سے اسرائیل تک، الشقیف قلع کی 900سالہ داستان ،فلسطینی مزاحمت سے اسرائیل،لبنان تنازع تک،الشقیف قلعہ جدید تاریخ کے کئی اہم موڑوں کا گواہ رہا ہے ۔الشقیف قلعہ (Beaufort Castle) لبنان کے سب سے مشہور اور تاریخی قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی چٹان پر دریائے لیتانی کے قریب واقع ہے اور اپنی جغرافیائی اہمیت، جنگی تاریخ اور شاندار تعمیر کے باعث صدیوں سے توجہ کا مرکز رہا ہے۔تاریخی شواہد کے مطابق اس مقام پر صلیبی دور سے پہلے بھی ایک دفاعی چوکی موجود تھی، تاہم موجودہ قلعے کی تعمیر بارہویں صدی میں صلیبی جنگوں کے دوران شروع ہوئی۔ 1139ء میں یروشلم کے بادشاہ فلک (Fulk) نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور بعد ازاں یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا گیا جسے فرانسیسی زبان میں بیوفورٹ (Beaufort) یعنی "خوبصورت اور مضبوط قلعہ" کہا گیا۔ 1189ء میں صلاح الدین ایوبی نے قلعے کا محاصرہ کیا۔ یہ صلیبیوں کے آخری مضبوط مراکز میں سے ایک تھا۔ طویل مزاحمت کے بعد 1190ء میں قلعہ ایوبی افواج کے قبضے میں آ گیا۔ بعد میں صلیبیوں نے دوبارہ اس پر قبضہ کیا، لیکن 1268ء میں مملوک سلطان الظاہر بیبرس نے اسے مستقل طور پر اسلامی سلطنت میں شامل کر لیا۔1516ء میں عثمانیوں کے شام اور لبنان پر قبضے کے بعد قلعہ مختلف مقامی حکمران خاندانوں کے زیرِ استعمال رہا۔ سترہویں صدی میں معروف لبنانی امیر فخر الدین ثانی نے بھی اس قلعے کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔
اہم خبریں سے مزید