کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے منتخب 85یوسی چیئرمینوں نے میئر کراچی کی پریس کانفرنس پر مشترکہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ مرتضیٰ وہاب اپنی مسلسل ناکامیوں، ناقص کارکردگی اور شہری مسائل کے حل میں بدترین ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے حقائق کو مسخ کرنے اور الزام تراشی کی سیاست کر رہے ہیں اگر ہل پارک کی زمین کے حوالے سے سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو کے ایم سی نے این او سی کیوں جاری کیا؟ اگر کوئی غیر قانونی الاٹمنٹ یا زمین کے استعمال میں تبدیلی نہیں ہوئی تو تمام دستاویزات، منظوریوں اور معاہدوں کی تفصیلات فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کی جائیں اسی طرح یہ بھی بتایا جائے کہ پارکوں اور عوامی مقامات کی زمین کمرشل مقاصد کے لیے کیوں اور کس اختیار کے تحت استعمال کی جا رہی ہے یو سی چیئرمینوں نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام گزشتہ تین برس سے پیپلزپارٹی کی بلدیاتی کارکردگی کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ دعووں اور زمینی حقائق میں کتنا بڑا فرق موجود ہے۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوں سے آلائشوں، کچرے اور گندگی کی متعدد شکایات موصول ہوتی رہیں اگر انتظامات واقعی مثالی تھے تو پھر شہر کے مختلف علاقوں کے عوام شکایات کیوں کرتے رہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کراچی صرف عید کے دنوں میں ہی نہیں بلکہ پورا سال کچرے کے ڈھیروں، ٹوٹی سڑکوں، سیوریج کے مسائل اور پانی کی قلت کا شکار رہتا ہےجماعت اسلامی کراچی شہری حقوق، بلدیاتی خودمختاری، وسائل کے منصفانہ استعمال اور کراچی کے جائز حق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مسلسل کراچی کے عوام کی آواز بلند کی ہے اور حکمرانوں کی نااہلی، بدانتظامی اور شہری حقوق کی پامالی کو بے نقاب کیا ہے۔قابض میئر سنجیدہ اور مدلل جواب دینے کے بجائے غیر شائستہ زبان اور غیر پارلیمانی طرز گفتگو اختیار کرتے ہیںجماعت اسلامی پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے مرتضیٰ وہاب کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیےالخدمت فاؤنڈیشن قربانی کی کھالوں، عطیات اور عوامی تعاون کے ذریعے لاکھوں مستحق افراد، یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مند خاندانوں کی خدمت کرتی ہےایسی فلاحی سرگرمیوں کو متنازع بنانے کی کوشش دراصل عوامی خدمت کے جذبے کی توہین ہےانہوں نے کہا کہ کراچی کی ایک ایک انچ زمین عوام کی امانت ہے اور اس کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔