• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ کراچی میں بائیکاٹ کو ایک ماہ مکمل، ہائیکورٹ کا پرانا عدالتی فیصلہ منظر عام پر

کراچی( اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی میں اساتذہ کی جانب سے لیو انکشمنٹ، ہاؤس سیلنگ اور دیگر معاملات پر امتحانات کے بائیکاٹ اور احتجاج کو تقریبا ایک ماہ ہوگیا ہے لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آرہی ہے، ہائیکورٹ کا پرانا عدالتی فیصلہ منظر عام پر آگیا۔ 24سال قبل تین ملازم تنظیموں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ہڑتا ل کرینگے ہیں نہ بائیکاٹ،جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی جانب سے اساتذہ اور ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے وزیر اعلی، چیف سکریٹری، وزیر جامعات اور سکریٹری بورڈز و جامعات لکھے گئے خطوط کا تاحال کوئی جواب نہیں ملا ہے ادھر جامعہ کراچی میں 24 برس پرانے احتجاج سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا عدالتی فیصلہ بھی منظر عام پر آگیا ہے جس میں جامعہ کراچی کی تین ملازم تنظیموں نے ہڑتال اور امتحانات کے بائیکاٹ سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں سوٹ نمبر 771/2002 اور سی ایم اے نمبر 4948/2002 کی سماعت کے دوران جامعہ کراچی کی تین تنظیموں کے عہدیداروں نے عدالت کے روبرو اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔ ان میں کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے سکریٹری ایسوسی ایٹ پروفیسر سرور نسیم ، کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عادل صدیقی اور کراچی یونیورسٹی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شامل جلیس احمد قاضی شامل تھے۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق مذکورہ عہدیداروں نے اپنے جوابی حلف نامے اور عدالت کے سامنے بیان میں یقین دہانی کرائی کہ انہوں نے ماضی میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی آئندہ ایسی کسی سرگرمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کی تنظیمیں نہ تو ہڑتال کی کال دے رہی ہیں اور نہ ہی جامعہ کے آئندہ امتحانات کے بائیکاٹ کا کوئی ارادہ رکھتی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تنظیموں کی جانب سے کسی قسم کی ریلی یا جلوس نہیں نکالا جائے گا، تاہم وہ اپنے اراکین کے فلاحی امور سے متعلق قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تعلیمی مباحثوں اور تنظیمی اجلاسوں کا انعقاد کرسکیں گی۔ اس کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ تنظیمیں جامعہ کے انتظامی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گی۔ عدالت نے جامعہ انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے اور اپنے افسران کو تنظیموں کی قانونی سرگرمیوں میں مداخلت سے روکے۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ آئندہ جامعہ انتظامیہ کے خلاف کوئی ایسا پریس بیان جاری نہیں کیا جائے گا جس سے ادارے یا انتظامیہ کی بدنامی ہو۔ عدالت نے حکم دیا کہ کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی، کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور کراچی یونیورسٹی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو اپنے مسائل اور شکایات پیش کرنے کے لئے وائس چانسلر سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔ اس موقع پر مدعی کے وکیل ندیم اظہر صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو یقین دلایا کہ وائس چانسلر سے مشاورت کے بعد متعلقہ عہدیداروں کی ملاقات آئندہ ہفتے کرائی جائے گی۔ ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ سرور نسیم، عادل صدیقی اور جلیس احمد قاضی بھی موجود تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں فریقین کو ہدایت کی کہ وہ باہمی بداعتمادی کے خاتمے اور جامعہ میں تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ ایک خوشگوار، ہم آہنگ اور تعلیمی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔
اہم خبریں سے مزید