• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خصوصی سروس قواعد واضح ترمیم کے بغیر تبدیل نہیں ہوسکتے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی ادارے کے لیے خصوصی قانون کے تحت بنائے گئے سروس اور محکمانہ قواعد اس وقت تک نافذ العمل رہتے ہیں جب تک انہیں متعلقہ قانون کے تحت باضابطہ طور پر تبدیل یا منسوخ نہ کیا جائے۔ جسٹس منیب اختر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلے میں ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے دائر تمام سول پٹیشنز برائے اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت کے روبرو بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020، ایف آئی اے ملازمین پر بھی لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ ایف آئی اے کا مؤقف تھا کہ 1973کے قواعد کی منسوخی اور 2020کے قواعد کے نفاذ کے بعد جنرل کلازز ایکٹ 1897کی دفعہ 8کے تحت نئے قواعد خود بخود ایف آئی اے ملازمین پر بھی نافذ ہو گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایف آئی اے ایکٹ 1974کے تحت 1978میں بنائے گئے خصوصی قواعد اب بھی نافذ العمل ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت ایف آئی اے ملازمین پر 2020کے قواعد نافذ کرنا چاہتی تو اسے ایف آئی اے ایکٹ 1974 کے تحت باضابطہ قانونی کارروائی کرتے ہوئے نئے قواعد یا ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا۔
اہم خبریں سے مزید