کراچی (طاہر عزیز۔۔اسٹاف رپورٹر) کراچی کو پانی کی بلاتعطل فراہمی واٹر کارپویشن کے بس میں نہ رہی شہری قلت پر مسلسل چلا رہے ہیں احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت سندھ اور نہ ہی واٹر کارپوریشن حکام اس صورتحال میں سنجیدہ نظر آ تے ہیںاتوار کو نارتھ ایسٹ کراچی (NEK) واٹر پمپنگ اسٹیشن پرصبح 3:27پر کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی اچانک معطل ہونے سے پانی کی فراہمی رک گئی جبکہدھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر پہلے ہی بجلی کے شٹ ڈاؤن کے باعث کراچی کو ہفتے سےپانی کی فراہمی معطل اور21میں سے 10پمپنگ یونٹس بند ہیںترجمان کے مطابق دھابیجی سے شہرکو54ایم جی ڈی پانی کی کمی کا سامنا ہےگرمی کا آغاز ہوتے ہی اور اس سے پہلے ایک سال میں بجلی کے بریک ڈاون اور لائن پھٹنے کے جتنےواقعات دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر ریکارڈ کئے گئے ہیں اس سے پہلے کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن پر بھی آئے روزخرابی سے پانی بند ہونامعمول ہے شہریوں نے افسوس کااظہار کرتے ہوئےوزیر بلدیات سندھ ناصرحسین شاہ اور میئروچیئر مین واٹر کارپوریشن مرتضیٰ وہاب سے سوال کیا ہے کہ آخر اس مسلئے کا حل کون نکالے گاآج تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی اگر کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی فراہمی میں مسئلہ ہے تو ان سے بات کرنا حکومت کا کام ہے لوگ ان دنوں شدیدگرم موسم میں پانی نہ ہونے کے باعث سخت اذیت کا شکار ہیں شہریوں کا کہنا ہےکہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں اور بااثر لوگوں کو ٹینکر کے ذریعے سرکاری ریٹ پر پانی مل جاتا ہےلیکن عام آدمی کی پہنچنہیں ہے اگرکسی کا مشکل سے آن لائن ٹینکر بک ہو بھی جائےہائیڈرننٹس کا عملہ ان تک نہیں پہنچاتا اور ریکارڈ میں اسٹیٹس ڈلیوری کادکھایا جاتا ہے اس طرح وہ مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں دریں اثنا اتوار کر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اعلامیے میں کہا گیا کہ نارتھ ایسٹ کراچی (NEK) واٹر پمپنگ اسٹیشن میں 31 مئی کو صبح 3:27 پر کے الیکٹرک کی جانب سے فراہم کی جانے والی بجلی اچانک معطل ہوگئی، جس کے باعث K-II پمپنگ اسٹیشن کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور شہر کو پانی کی فراہمی کا نظام جزوی طور پر متاثر ہوا۔