• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو یونیورسٹی میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ، وائس چانسلر کا احتساب کیا جائے، انجمن اساتذہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاقی اردو یونیورسٹی کے نامزد کنندہ کمیٹی (نومینیٹنگ کمیٹی) کے منتخب اراکین اور انجمن اساتذہ نے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے ڈھائی سالہ دور کو یونیورسٹی کے مالی، انتظامی اور تعلیمی بحرانوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے صدر مملکت اور چانسلر آصف علی زرداری اور پرو چانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔انجمن اساتذہ کے صدر ڈاکٹر روشن علی سومرو اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید اقبال حسین نقوی نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے، سینیٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے اور وائس چانسلر سے ان کی کارکردگی سے متعلق جامع رپورٹ طلب کی جائے،وائس چانسلر کا احتساب کیا جائے۔اساتذہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود گزشتہ دو برس سے ملازمین دو ماہ کی تنخواہوں، چار ماہ کی پنشن اور 24 ماہ کی ہاؤس سیلنگ کی ادائیگی سے محروم ہیں، جبکہ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین اپنے واجبات کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کراچی کے بڑے اسپتالوں میں یونیورسٹی ملازمین کے لیے میڈیکل پینل کی سہولت مکمل طور پر معطل ہوچکی ہے۔ اس کے ساتھ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ سینیٹ کی منظوری کے بغیر نجی ادارے کو یونیورسٹی کی قیمتی اراضی مفت فراہم کی گئی جبکہ اس ادارے کے بجلی کے اخراجات بھی یونیورسٹی برداشت کر رہی ہے۔ اساتذہ رہنماؤں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری خود بھی اس یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ملازمین کی ہاؤس سیلنگ کے لیے مختص فنڈز یونیورسٹی کے بجٹ میں موجود ہونے کے باوجود گزشتہ دو برس سے 100 سے زائد ملازمین کو یہ ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں، جس پر خصوصی آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔بیان کے مطابق وائس چانسلر کے بعض انتظامی فیصلوں کے نتیجے میں ملازمین کے حقوق متاثر ہوئے اور یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ اساتذہ رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ بعض ملازمین کو غیر قانونی طور پر ملازمتوں سے برطرف یا قبل از وقت ریٹائر کیا جا رہا ہے جبکہ خواتین اساتذہ کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور ان کی تنخواہوں میں غیر ضروری کٹوتیاں کی گئیں، جس کے خلاف متعدد شکایات ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو بھی ارسال کی جا چکی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سنڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل سے بعض غیر آئینی فیصلے منظور کرائے جاتے ہیں جبکہ کیمپس خودمختاری جیسے اہم معاملات کو باضابطہ منظوری کے بغیر اجلاسوں کی روداد کا حصہ بنایا جاتا ہے۔اساتذہ کے مطابق اکیڈمک کونسل کے فیصلے کے تحت رواں سمسٹر کے امتحانات 22 جون سے شروع ہونا تھے، تاہم کریڈٹ آورز مکمل ہونے سے قبل وائس چانسلر کی ہدایت پر امتحانات 8 جون سے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، جو ان کے بقول ایچ ای سی کی پالیسیوں کے منافی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سولرائزیشن کے لیے فراہم کی گئی 10 کروڑ روپے کی گرانٹ مؤثر انداز میں استعمال نہیں کی جا سکی، جس کے باعث کراچی کیمپسز کے بجلی کے بلوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ برقرار ہے۔اساتذہ رہنماؤں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی حکام کی کارکردگی چھپانے کے لیے ملازمین کے نام سے من گھڑت خبریں شائع کروائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔
اہم خبریں سے مزید