کیرن سیکٹر (اے ایف پی) عید الاضحی نے ایک بار پھر بچھڑے ہوئے کشمیری خاندانوں کے زخم ہرے کردیئے،بھارت کے سخت سیکورٹی اقدامات کے باعث عید کی مبارکباد بھی نہیں دے سکے،غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیری شہری کا کہنا تھا کہ دریا کے اس پار بھائی کی قبر مگر راستہ بند، فاتحہ پڑھنے نہیں جاسکتے،کشمیر کے رہائشی راجا بشارت نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے بھائی راجہ لیاقت کا مقبوضہ کشمیر میں انتقال ہوا تھا ان کی تدفین بھارت کے زیر قبضہ کرن سیکٹر میں کی گئی بھارتی سیکورٹی فورسز کی سختی کے باعث وہ بھائی کی قبر کو جو صرف چند میٹر کے فاصلہ پر ہے صرف دور سے دیکھ سکتے ہیں لیکن قریب نہیں جاسکتے، اپنے بھائی کی قبر دریا کے اُس پار دیکھ سکتے ہیں جو متنازعہ خطے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، لیکن وہاں جانا ناممکن ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر مسلمانوں کی ایک روایت اپنے مرحوم عزیزوں کی قبروں پر حاضری دینا ہے، مگر بشارت اس سے محروم ہیں۔یہ تہوار اُن کشمیری خاندانوں کی جدائی کی دردناک یاد تازہ کرتا ہے جو ہمالیائی خطے کے بھارتی اور پاکستانی زیرِ انتظام حصوں میں بٹے ہوئے ہیں، اور گزشتہ سال کشیدگی میں شدید اضافے کے بعد حالات مزید تناؤ کا شکار ہیں۔کئی برسوں تک سرحد کے دونوں جانب بچھڑے خاندان دریا کے مخالف کناروں پر جمع ہوتے، ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر سلام کرتے، عید کی مبارکباد دیتے اور اپنے عزیزوں کی ایک جھلک دیکھ لیتے تھے۔لیکن حالیہ دنوں میں بھارتی فوج کی جانب سے سخت سیکورٹی اقدامات کے باعث یہ غیر رسمی ملاقاتیں تقریباً ختم ہوچکی ہیں ۔ ان کے آبائی گاؤں کا وہ حصہ ہے جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) نامی سخت فوجی سرحد کے باعث دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔