• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭ مَیں نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ مدینے کا رُتبہ اتنا بلند کیوں ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ یہ ایک واحد جگہ ہے، جہاں کسی کا دل نہیں توڑا جاتا۔

٭ کسی نے درویش سے پوچھا دنیا میں سب دُکھی کیوں ہیں؟ درویش نے ہنس کر جواب دیا ’’خوشیاں تو سب کے پاس ہیں۔ بس ایک کی خوشی دوسرے کا درد بن جاتی ہے۔

٭ بابا جی کہتے ہیں، جیسے ہم لوگ حج کرنے کے بعد اپنے نام کے ساتھ حاجی لگا لیتے ہیں تو ویسے ہی ہمیں فراڈ کرنے کے بعد اپنے نام کے ساتھ ’’فراڈی‘‘ بھی لگا لینا چاہیے۔

٭ ایک آدمی نے کسی بزرگ سے پوچھا۔’’میرا اللہ اس وقت کیوں نہیں سُنتا، جب مَیں مانگتا ہوں؟‘‘ بزرگ نے مُسکرا کر کہا۔ ’’وہ تیرے گناہوں کی سزا بھی اُس وقت نہیں دیتا، جب تُو کرتا ہے۔‘‘

٭ حکیم لقمان سے پوچھا گیا۔ ’’موت سے زیادہ تکلیف دہ کوئی لمحہ ہے؟‘‘فرمایا۔ ’’ہاں، جب کوئی سفید پوش مجبور ہو کر کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے۔‘‘

خوشہ چینی!!

٭ دنیا کی دولت اللہ اُنہیں بھی دیتا ہے، جنہیں وہ پسند نہیں کرتا، مگردین کی دولت صرف انہیں دیتا ہے، جنہیں وہ محبوب رکھتا ہے۔

٭ اگر دنیا میں صرف سُکون اور خوشی ہوتی تو لوگ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے، سُکون درحقیقت صرف اُن لوگوں کے لیے ہے، جو اللہ کی رضا کو اپنی رضا مان لیتے ہیں۔

٭ کل ایک انسان مجھ سے روٹی مانگ کر لے گیا اور کروڑوں کی دُعائیں دے گیا۔ پتا نہیں، غریب وہ تھا یا مَیں۔

٭ مَیں نے بس میں اپنی برابر والی سیٹ پر بیٹھی خاتون سے پوچھا۔ ’’کیا مَیں اِس پرفیوم کا نام پوچھ سکتا ہوں، جو آپ نے لگایا ہوا ہے۔ مَیں اپنی بیوی کو گفٹ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ 

خاتون نے جواباً کہا۔ ’’یہ اپنی بیوی کو گفٹ مت دینا، کیوں کہ پھر کسی بھی گھٹیا انسان کو اُس سے بات کرنے کا موقع مل جائے گا۔‘‘

(مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا)

سنڈے میگزین سے مزید