• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کائنات کا ’’ایڈمن‘‘ اور اس کے ’’پاس ورڈز‘‘

گزشتہ دنوں نمازِ تراویح کے دوران جب امام صاحب تلاوت کرتے ہوئے قرآنِ پاک کی اِس آیت پر پہنچے کہ ’’لہُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالارضِ‘‘ (ترجمہ: آسمانوں اور زمینوں کی کُنجیوں کا مالک وہی ہے) تو دماغ میں اچانک ایک جھماکا سا ہوا۔ قرآنِ مجید کے یہ الفاظ پہلے بھی کئی مرتبہ سُنے اور پڑھے تھے، مگر اِس بار لفظ ’’مقالید‘‘ یعنی کُنجیاں ذہن میں ایک نئی جہت کے ساتھ سامنے آیا۔ مذکورہ آیت، قرآنِ مجید کی اُن جامع آیات میں سے ہے، جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک کائناتِ معنی سموئے ہوئے ہے۔

عام طور پر ہم اس آیت کا مفہوم کچھ یوں نکالتےہیں کہ’’آسمانوں اور زمین کی کُنجیاں اللہ ہی کےپاس ہیں۔‘‘ یعنی اختیار، اقتدار، ملکیت اور تصرّف صرف اُسی ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے خاص ہے، کیوں کہ کُنجی کا نام لیتے ہی ذہن میں ’’تالا‘‘ آتا ہے اور تالا ہمیشہ بند دروازے کو لگایا جاتا ہے۔ اِس تالے میں کوئی راز، کوئی ایسی چیز مقفّل ہوتی ہے، جس تک ہر کسی کی رسائی نہیں ہونی چاہیے۔

کُنجی اختیار کی علامت بھی ہے اورحفاظت کی بھی۔ آسمانوں، زمین اور اس پوری کائنات کے بھی بہت سےبند دروازے ہیں، تو اُن کی کُنجیاں کیسی ہوں گی؟ نماز کے بعد یہی سوال ذہن میں گردش کرتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ سوچ کا زاویہ جدید دَور کی طرف منتقل ہوگیا۔ آج کی دُنیا میں کُنجی کا سب سے نمایاں استعارہ ’’پاس ورڈ‘‘ ہے۔ ہم صُبح آنکھ کُھلتے ہی سب سے پہلے پاس ورڈ کے ذریعے اپنا موبائل فون اَن لاک کرتے ہیں۔

اِسی طرح ای میل، ای بینک اورسوشل میڈیا اکائونٹس پر لاگ اِن ہوتےہیں۔ ہرجگہ ہمیں ایک خفیہ کوڈ یا پاس ورڈ درج کرنا پڑتا ہے۔ یہ پاس ورڈز دراصل ہماری ڈیجیٹل زندگی کی کُنجیاں ہیں۔ ان کے بغیر ہم اپنےہی ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ تصاویر، دستاویزات،مالی ریکارڈ، ذاتی پیغامات حتیٰ کہ سب کچھ ایک خفیہ حفاظتی نظام کے تحت محفوظ ہوتا ہے۔ اگر کوئی غیرمجاز شخص اس سسٹم میں داخل ہونے کی کوشش کرے، تو اُس کا یہ عمل ’’ہیکنگ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ ایک جُرم ہے۔

یہاں ذہن نے ایک تمثیل قائم کی کہ آسمانوں اور زمین کی کُنجیاں بھی ایک عظیم اور پُرہیبت نظامِ الہٰی کے ’’پاس ورڈز‘‘ کی مانند ہیں اور کائنات کا مکمل ’’ڈیٹا‘‘ قوانین اور ایک محفوظ نظام کے ماتحت ہے، جس تک مکمل رسائی صرف خالقِ کائنات ہی کوحاصل ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مادّی نظام کا محتاج نہیں۔ اس کی قدرت کا مظہر ’’کُن فیکون‘‘ ہے، مگر انسان چوں کہ مثالوں کے ذریعے سمجھتاہے، تو اس لیے یہ تشبیہ فہم کے قریب لے آتی ہے۔ یہاں ایک اور پہلو یاد آیا کہ جو اس تمثیل کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ شیاطین آسمانوں کی طرف جاتے ہیں، تاکہ وہاں کی خبریں سُن سکیں،مگراُنہیں دہکتےہوئےانگاروں کےذریعے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ منظر اگر تمثیلی انداز میں دیکھاجائے، تو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے کوئی غیرمجازہستی نظامِ الہٰی تک رسائی کی کوشش کر رہی ہو، مگر حفاظتی نظام فوری طور پر متحرّک ہوجاتا ہے اور اُسے واپس دھکیل دیتا ہے۔ جدید زبان میں کہیں، تو یہ ’’ہیکنگ‘‘ کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے۔

یعنی سسٹم میں داخل ہونے کی کوشش ہوئی، مگر ’’فائر وال‘‘ فعال ہوگئی۔ ڈیٹاتک پہنچنےکی سعی ہوئی، مگر حفاظتی کوڈ نے راستہ بند کردیا۔ یہ مثال محض تشبیہ ہے، مگر اس سےایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کائنات کا نظام غیرمحفوظ نہیں، بلکہ اس کے گرد ایک الہٰی حصار موجود ہے اور وہاں تک رسائی صرف اُسی کو ہے، جس کے پاس اصل کُنجیاں ہیں۔

اِسی کے ساتھ ہی قرآنِ پاک انسان کو کائنات پر غورو فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ آسمانوں کی بلندی، زمین کی وسعت، دن اور رات کا نظام، یہ سب غور وفکر کے لیے کُھلے ہیں۔ گویا کچھ دروازے جان بوجھ کر کُھلے رکھے گئے ہیں۔ انسان کوعقل، مشاہدے اوراستدلال جیسی صفات عطا کی گئی ہیں اور یہ سب کُنجیاں ہی ہیں۔ سائنس دراصل انہی عطا کردہ کُنجیوں کے استعمال کا دوسرا نام ہے۔ انسان نے کششِ ثقل دریافت کی، ستاروں کی حرکت کو سمجھا، ایٹم کی ساخت کا سراغ لگایا، مصنوعی ذہانت تخلیق کی، مگر اِس نےقوانین بنائے نہیں،صرف دریافت کیے۔

وہ اس نظام کےاندررہتے ہوئے ہی اس کی ترتیب کوسمجھ سکا اور یہاں فرق واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کے پاس محدود کُنجیاں ہیں، اصل مقالید اور کُل اختیار اُسی مالکِ حقیقی کے پاس ہے۔ ہم پاس وَرڈ بُھول جائیں، تو اپنے ہی اکاؤنٹ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ سسٹم کریش ہو جائے،توبےبس ہوجاتے ہیں، مگرکائنات کا نظام اربوں برس سے قائم ہے۔ سورج مقرّرہ وقت پر طلوع ہوتا ہے، زمین اپنی گردش میں خطا نہیں کرتی اور کہکشائیں اپنے مدار میں قائم ہیں۔

یہ نظم وضبط اس بات کی علامت ہےکہ اس پورے نظام کے پیچھے ایک کامل علم اور کامل اختیار موجودہے۔’’لہُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘ دراصل توحید کا جامع اعلان ہے۔ اقتدار بھی اُسی کا، علم بھی اُسی کا، ملکیت بھی اُسی کی۔ نہ کوئی شریک، نہ کوئی ہم پلّہ اور نہ کوئی ایسا کہ جو اس نظام میں مداخلت کرسکے۔ شیاطین کی آسمان تک رسائی کی ناکام کوشش ہمیں یہ بھی یاد دِلاتی ہے کہ ہر دروازہ ہر ایک کے لیے نہیں کُھلتا۔ کچھ حدود، کچھ قوانین اور کچھ حفاظتی فصیلیں ہیں۔

یاد رہے، انسان کو جو کُنجیاں دی گئی ہیں، وہ اُس کی آزمائش بھی ہیں۔ وہ اُنہیں خیر کے لیے استعمال کرتا ہےیا شرکےلیے، یہی اُس کا اصل امتحان ہے۔ جدید دَور میں معلومات ایک بڑی طاقت ہے، جس کے پاس زیادہ ڈیٹا ہے، وہ زیادہ باخبر ہے، مگر کائنات کا مکمل ڈیٹا صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ایسی کتنی کہکشائیں اور مخلوقات ہیں، جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے اور کتنے ہی قوانین ابھی دریافت ہونا باقی ہیں۔ یہ سب اُسی علمِ مطلق کا حصّہ ہیں۔ رمضان کی اُس رات ایک لفظ نے سوچ کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔ ’’کُنجیاں‘‘ محض ایک لغوی مفہوم نہ رہیں، بلکہ ایک فکری استعارہ بن گئیں۔

کچھ دروازے کُھلے ہیں، تاکہ انسان تلاش کرے۔ کچھ دروازے بند ہیں، تاکہ وہ اپنی حدود کو پہچانے مگر…تمام کُنجیاں اُسی کے پاس ہیں، جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ یہاں انسان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر دریافت شدہ راز، ہر نیا علم اور نئی ایجاد سب اُسی کی عطا کردہ کُنجیاں ہیں، اوراصل اختیار اُس مالکِ حقیقی کے پاس ہے۔ ’’لہُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘ صرف ایک عقیدہ نہیں، عاجزی کی دعوت ہے۔ علم حاصل کرو، مگرغرور نہ کرو۔ تحقیق کرو، مگر اپنی حدود پہچانو۔ نظام کو سمجھو، مگر یہ نہ سمجھو کہ تم اس کے مالک ہو۔ کائنات کا اصل ایڈمن وہی ہے۔ اصل پاس ورڈ اُسی کے قبضے میں ہے اور کوئی ہیکنگ اُس کے نظام میں نقب نہیں لگا سکتی۔