• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئندہ بجٹ کا حجم 4715 ارب، شرح نمو 4 اور مہنگائی 8.2 فیصد کا ہدف، کمیٹی کی سفارش

اسلام آباد(مہتاب حیدر،تنویر ہاشمی) سالانہ پلان رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 4 ہزار 715 ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی سفارش کرتے ہوئے ملکی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد اور مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ تاہم اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کی بقایا لاگت یا ’’تھرو فارورڈ‘‘ بڑھ کر 10.82 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث موجودہ رفتار سے ان منصوبوں کی تکمیل میں تقریباً ایک دہائی لگ سکتی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک ہزار 126 ارب روپے تجویز کیا گیا جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 3 ہزار 138 ارب روپے اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی۔ صوبوں میں پنجاب کو سب سے زیادہ ایک ہزار 410 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ سندھ کے لیے 816 ارب، خیبر پختونخوا کے لیے 564 ارب اور بلوچستان کے لیے 305 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک کھرب روپے کے قریب منجمد ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی بقایا لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک سے قرضوں کے رول اوور اور بانڈز کے اجرا کو کامیابی کے طور پر پیش کرنا باعث تشویش ہے کیونکہ ملک کو اپنی ترقیاتی ترجیحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں سے مزید