اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)امریکہ اور ایران کی محدود فوجی جھڑپیں، عالمی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار، ’’برینٹ کروڈ‘‘ میں 6.71 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ، قیمت 97.23 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی دیر رات عالمی مالیاتی نظام شدید اتار چڑھاؤ کی زد میں آ گیا، جب توانائی کی قیمتیں بتانے والے لائیو ٹکرز گہرے سرخ رنگ میں بدل گئے؛ یہ صورتحال تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی ٹارگٹڈ فوجی جھڑپوں پر کموڈٹی ٹریڈرز کے شدید اور فوری ردعمل کو ظاہر کرتی ہے۔ ریئل ٹائم اسپاٹ مارکیٹ گزشتہ ہفتے کی محتاط امید پرستی سے مکمل طور پر لاتعلق ہو گئی۔ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے شدید دباؤ کے دوران، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے معیار ’’برینٹ کروڈ‘‘ میں 6.71 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت 97.23 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی؛ یہ قیمت 100 ڈالر کی نفسیاتی حد کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ امریکی مارکیٹ میں خوف و ہراس کے باعث ہونے والی خریداری اس سے بھی زیادہ نمایاں تھی، جہاں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 7.80 فیصد کا انتہائی تیز اضافہ دیکھا گیا؛ اس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 6.81 ڈالر بڑھ کر 94.17 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سے باہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کے راستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔