سرینگر (اے پی پی)بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت نے گزشتہ 50دن سے جاری نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں بڑے پیمانے پر چھاپوں اورتلاشی کارروائیوں کے دوران 1000سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے نام نہاد انسداد منشیات مہم کے تحت10اپریل سے 29مئی کے درمیان ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیاہے۔11اپریل کو غیر کشمیری لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے شروع کی گئی مہم کو بڑے پیمانے پر گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مہم کے دوران 1,018افراد کو گرفتار کیاگیا اور 200 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد ضبط کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پولیس نے اس مدت کے دوران 63.93کروڑ روپے کی 89غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کیں اور 19.77کروڑ روپے کی 63جائیدادوں کو مسمارکیا۔ اس کے علاوہ 55 افراد کو انسداد منشیات قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔مبصرین اس مہم کو انسداد منشیات کی آڑ میں کشمیریوں کی سیاسی مزاحمت اور ان کے معاشی استحکام کو کمزور کرنے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر جائیدادوں کی ضبطی اور مسماری نے مقامی آبادی کو درپیش مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران مکینوں کو ہراساں کیا جارہاہے اورباربارگھروں کی تلاشی لی جاتی ہے، گھریلو سامان کی توڑپھوڑ کی جاتی ہے جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ جن افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایاجاتا ہے ،ان سے بعد میں موٹی رقوم وصول کی جاتی ہیں۔