• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم ڈی کیٹ کی نامزد یونیورسٹی پر تنازعہ، سندھ حکومت سے وضاحت طلب

کراچی (سید محمد عسکری) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026کے انعقاد کے لئے نامزد کی گئی یونیورسٹی کے انتخاب کے حوالے سے سامنے آنے والے مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پر سندھ حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے اور اپنی رائے اور مؤقف سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔پی ایم اینڈ ڈی سی کے رجسٹرار کی جانب سے محکمہ صحت سندھ کے سیکریٹری کو ارسال کئے گئے ایک سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کونسل کے 15 اپریل 2026 کے خط کے تناظر میں میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے لئے داخلہ و امتحانی انتظامات سنبھالنے والی یونیورسٹی کے انتخاب کے عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اس ضمن میں مفادات کے ٹکراؤ کے امکانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ایم ڈی کیٹ ایک انتہائی اہم اور حساس امتحان ہے، اس لئے اس کے انعقاد کے لئے ایسی جامعہ کا انتخاب ضروری ہے جس کے بارے میں کسی قسم کے جانبداری یا مفادات کے ٹکراؤ کا تاثر موجود نہ ہو۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے سندھ حکومت سے کہا ہے کہ وہ خط موصول ہونے کے تین دن کے اندر اس معاملے پر اپنے تبصرے اور سفارشات ارسال کرے تاکہ آئندہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ میں متعدد ممتاز اور باوقار جامعات موجود ہیں، اس لئے ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کے لئے نامزد ادارے کے انتخاب میں مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور منصفانہ طریقہ کار کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ کونسل کے مطابق امتحان منعقد کرنے والی یونیورسٹی کی نامزدگی میں کسی بھی ممکنہ مفاداتی تصادم کو خارج از امکان بنانا ضروری ہے تاکہ امیدواروں اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ یاد رہے روزنامہ جنگ اور دی نیوز نے یہ خبر بریک کی تھی کہ آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ نے اپنی بیٹی کے اس سال ایم ڈی سی اے ٹی کے امتحان میں شرکت کرنے کے باعث سندھ حکومت کو تجویز دی تھی کہ یہ ٹیسٹ کسی دوسرے ادارے کو تفویض کیا جائے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ کے تاثر سے بچا جا سکے۔ جس کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے انعقاد کے لئے منتخب ادارہ ( آئی بی اے سکھر )امتحانی عمل کے دوران مکمل غیر جانبداری برقرار رکھ سکے گا یا نہیں۔ انہی خدشات کے پیش نظر پی ایم اینڈ ڈی سی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت سے باضابطہ مؤقف طلب کیا ہے۔ ادہر معلوم ہوا ہے کہ سکریٹری صحت طاہر سانگی نے کئی روز گزرنے کے باوجود پی ایم ڈی سی کے خط کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا ہے۔ جنگ نے صوبائ سکریٹری صحت طاہر سانگی سے موقف لینے کی متعدد کوشش کی مگر انھوں جواب نہیں دیا۔ یاد رہے کہ سندھ کی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو ہیں جو صدر مملکت آصف زرداری کی ہمشیرہ ہیں۔

اہم خبریں سے مزید