اسلام آباد( رپورٹ :،رانامسعود حسین) وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ مینوفیکچررز پر ٹیکس عائد کرنے کیخلاف دائر مقدمہ کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قراردیا کہ پولٹری فارمرز سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں، اس لیے انہیں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں ، ہائی کورٹ نے ٹیکس حکام کے حکم کو برقرار رکھ کر غلطی کی ،جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے 24 دسمبر 2025کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل کی سماعت مکمل کی تھی ،گزشتہ روز جاری کیا جانیوالا7صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے قلمبند کیا ہے ،جس میں عدالت نے قراردیاہے کہ قانونی پوزیشن کے پیش نظر، ہمارے سامنے چیلنج کیا گیا فیصلہ برقرار رہنے کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ قانون کی درست تشریح کی عکاسی نہیں کرتا، اور ہائی کورٹ نے ٹیکس حکام کے حکم کو برقرار رکھ کر غلطی کی ہے ،عدالت نے قراردیا ہے کہ قانون کے تحت ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے والے شخص کے لیے سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کرانا لازمی نہیں ، پولٹری فارمرز سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں، اس لیے انہیں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، عدالت نے واضح کیاہے کہ پولٹری فیڈ بنانے والوں پر مزید ٹیکس (Further Tax) عائد کرنا ناانصافی ہے، کیونکہ یہ بوجھ بالآخر پولٹری فارمرز پر ہی منتقل ہوگا، جو کہ سیلز ٹیکس کے نظام کے اصولوں کے خلاف ہے۔