• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فارم 47 پر PTI کا بیانیہ ناکام، الیکشن ٹریبونلز میں ایک بھی امیدوار کی انتخابی عذرداری کامیاب نہ ہوسکی

اسلام آباد:(انصار عباسی)…8؍ فروری 2024ء کے متنازع عام انتخابات کو دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدوار فارم 47؍ میں مبینہ رد و بدل کے الزامات پر مبنی زیادہ تر درخواستیں دائر کرنے کے باوجود انتخابی ٹربیونلز میں ایک بھی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے اعداد و شمار کے مطابق 374؍ میں سے 246؍ درخواستوں کا فیصلہ ہو چکا ہے، یہ تقریباً دو تہائی تعداد ہے، اور حیران کن طور پر 242؍ درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے تقریباً 55؍ فیصد درخواستیں (86؍ قومی اسمبلی اور 120؍ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے متعلق) دائر کیں، جن میں بارہا یہ موقف اختیار کیا گیا کہ فارم 47؍ میں عارضی مجموعی نتائج کو پولنگ اسٹیشن کے فارم 45؍ کے نتائج سے غیر قانونی طور پر تبدیل کیا گیا۔ تاہم فافن کے مطابق جن درخواستوں پر فیصلہ ہو چکا ہے ان میں کیے گئے دعووں میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہوا۔ ٹربیونلز نے پی ٹی آئی سے منسلک درخواستوں کو بڑی حد تک طریقہ کار کی بنیاد پر یا پھر شواہد کی عدم دستیابی کے باعث مسترد کیا۔ فافن کے مدثر رضوی کا کہنا ہے کہ مسترد شدہ درخواستوں میں سے 123؍ ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کی گئیں، جن میں 44؍ قومی اسمبلی اور 79؍ صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے متعلق تھیں۔ مزید 26؍ درخواستیں اس بنیاد پر مسترد ہوئیں کہ الزامات مقدمے کے دوران ثابت نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ 12؍ درخواستیں واپس لے لی گئیں، 16؍ عدم پیروی پر خارج ہوئیں جبکہ 2؍ درخواستیں مختلف وجوہات (جیسے کامیاب امیدوار کی وفات یا استعفیٰ) کی بنیاد پر مسترد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کے فیصلوں کی رفتار سست ہے، حالانکہ قانون کے مطابق انہیں 180؍ دن کے اندر نمٹایا جانا چاہئے تھا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس مدت پر عملدرآمد کرانے کا کوئی اختیار نہیں۔ اب تک 246؍ درخواستوں کا فیصلہ ہو چکا ہے، جن میں سے 242؍ مسترد جبکہ 123؍ فیصلوں کیخلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر ہیں۔ فافن کو اب تک 63؍ مسترد شدہ درخواستوں کے فیصلوں کی نقول حاصل نہیں ہو سکیں، جن میں 16؍ قومی اسمبلی اور 47؍ صوبائی اسمبلی سے متعلق ہیں، لہٰذا یہ درخواستیں مسترد ہونے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ 246؍ میں سے صرف چار کیسز منظور ہوئے، اور وہ بھی بلوچستان اسمبلی کے حلقوں سے متعلق تھے، جو جمعیت علمائے اسلام (ف) یا نیشنل پارٹی کے امیدواروں نے دائر کیے تھے، نہ کہ پی ٹی آئی نے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کی جانب سے بڑی تعداد میں دائر کردہ درخواستیں، جو زیادہ تر نون لیگ کے کامیاب امیدواروں کیخلاف تھیں، مسترد ہو گئیں۔ 242؍ مسترد شدہ درخواستوں میں سے اکثر درخواستیں ایسی ہیں جو براہِ راست پی ٹی آئی کے فارم 47؍ میں منظم دھاندلی کے بیانیے کو کمزور کرتی ہیں۔ دیگر کیسز یا تو واپس لے لیے گئے (12)، یا عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہوئے (16)، یا دیگر وجوہات کی بنا پر نمٹائے گئے۔ پی ٹی آئی کا موقف رہا ہے کہ انتخابات کو رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں بے ضابطگیوں اور فارم 47؍ میں تبدیلیوں کے ذریعے ’’چوری‘‘ کیا گیا۔ تاہم، جن کیسز میں مکمل سماعت ہوئی، وہاں ٹربیونلز نے ان دعووں کو غیر ثابت شدہ قرار دیا۔ مدثر رضوی کے مطابق، اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر درخواستیں یا تو طریقہ کار کی خامیوں یا ثبوتوں کی عدم موجودگی کی بنیاد پر مسترد ہوئیں، نہ کہ کسی ثابت شدہ دھاندلی کی بنیاد پر۔ پی ٹی آئی اور دیگر فریقین نے 123؍ ٹربیونل فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جن میں سے اب تک صرف 18؍ کا فیصلہ ہوا ہے، جن میں تین کو جزوی یا مکمل طور پر منظور کیا گیا جبکہ 15؍ درخواستیں مسترد ہوئیں۔ 105؍ اپیلیں تاحال زیرِ التوا ہیں، اور اگرچہ پارٹی قانونی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم ٹربیونلز کا ریکارڈ پی ٹی آئی کی انتخابات کے بعد کی حکمتِ عملی کیلئے واضح دھچکا ثابت ہوا ہے۔ فافن کے اعداد و شمار کے مطابق، پی ٹی آئی کی جانب سے ’’مینڈیٹ کی چوری‘‘ اور فارم 47؍ کے تنازع پر بھرپور مہم کے باوجود، پارٹی زیادہ تر مقدمات میں دھاندلی کے دعووں کے اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید