• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائد آباد، 3 سالہ بچی کے پوسٹ مارٹم میں جنسی تشدد کی تصدیق

کراچی (اسٹاف رپورٹر)قائد آباد مسلم آباد میں گزشتہ روز بوری میں کمسن بچی کی لاش ملنے کے واقعہ میں بچی کے پوسٹ مارٹم میں جنسی تشدد کی تصدیق ہو گئی،کچھ مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ مشتبہ افراد میں مقتولہ بچی کےقریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا۔تفصیلات کے مطابق قائد آباد تھانے کی حدود مسلم آباد کالونی گلی نمبر 4 سے گزشتہ شب 3 سالہ کمسن بچی کلثوم بی بی دختر محمد قاسم کی لاش ملنے کے واقعہ میں مقتولہ بچی کے پوسٹ مارٹم میں جنسی تشدد کی تصدیق ہوگئی ہے۔ پولیس سرجن کے مطابق مقتولہ کمسن بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بچی کی وجہ موت کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے۔مختلف نمونے کیمیائی تجزیہ کے لئے محفوظ کیے گئے ہیں ۔کیمیکل اگزامن رپورٹ آنے پر وجہ موت کا تعین ہوگا ۔مقتولہ کے قتل کا مقدمہ والد محمد قاسم کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا۔مقتولہ کلثوم بی بی کے والد کے مطابق منگل کی شام ساڑھے 4 بجے بیوی نے انھیں فون کرکے بتایا کہ بیٹی کلثوم گھرسے باہرکھیلنے گئی تھی اور واپس نہیں لوٹی ہے۔ اطلاع پر فوری گھر پہنچا تو گھر والوں نے بتایا کہ ہم نے بیٹی کلثوم کوکافی تلاش کیا مگر وہ نہیں ملی ۔میں اپنے بڑے بھائی شہزاد کے ہمراہ بیٹی کوتلاش کرنے کےلیے نکل گیا لیکن بیٹی کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ رات پونے آٹھ بجے ہم دونوں بھائی گھر واپس آرہے تھے تو گلی میں کافی ہجوم جمع تھا،مجھے محلے داروں نے بتایا کہ آپ کی بیٹی کلثوم کو شخص / اشخاص مارکر آٹے والی بوری میں اس کی لاش ڈال کر آپ کے گھر والی گلی کے گیٹ کے اندر پھینک گئے ہیں۔ آپ کی بیٹی کی لاش کو محلے کے لڑکے موٹرسائیکل پرسوشل سیکیورٹی اسپتال لے گئے ہیں ۔میں بھی اسپتال پہنچا تو میری بیٹی کی لاش ایمرجنسی میں پڑی تھی۔ ڈاکٹرز نے بتایاکہ بیٹی کو فوت ہوئے کافی وقت ہو گیا ہے ۔میرا دعویٰ ہے کہ کوئی نامعلوم شخص یا اشخاص نے میری کمسن بیٹٗی کواغوا کرکے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایااوراسے قتل کرکے اپنا جرم چھپانے کے لیے اس کی لاش آٹے کی بوری میں ڈال کرمیرے گھرکی گلی کے گیٹ کے اندر پھینک کرجانے کا ہے ۔لہذاقانونی کارروائی کی جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق کچھ مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔مشتبہ افراد میں مقتولہ بچی کےقریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔
اہم خبریں سے مزید