مظفرآباد، راولپنڈی (نامہ نگار، نیوز ڈیسک) آزاد جموں کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد کو گرفتار کیا گیا، گرفتار افراد سے اسلحہ، مواصلاتی آلات، مشتبہ دستاویزات برآمد،غیر ملکی افراد سے مشکوک روابط کے اشارے ملے، پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد ریاستی اداروں کیخلاف اشتعال پیدا کرنے،معمولات زندگی مفلوج کرنیکی منصوبہ بندی کر رہے تھے، آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال پر حکومت نے آج سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مخصوص سیاسی جتھے اور ٹرولز آزادکشمیر میں افراتفری پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں،سیاست کے نام پر انتشار پھیلانے والوں سے اب کسی قسم کی بات نہیں ہوگی۔تفصیلات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر پولیس نے امن و امان برقرار اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے وابستہ تقریباً 72 افراد کو گرفتار کرلیا۔ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عناصر عوامی مسائل کے نام پر امن عامہ خراب کرنے، انتخابی عمل کو متاثر کرنے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، ریاستی اداروں کیخلاف اشتعال پیدا کرنے اور غیر آئینی و پرتشدد ایجی ٹیشن کے ذریعے معمولاتِ زندگی مفلوج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے تمام معلومات، برآمد شدہ مواد، ڈیجیٹل شواہد اور روابط کا قانونی تقاضوں کے مطابق جائزہ لے رہے ہیں۔آئی جی پولیس آزاد جموں و کشمیر نے واضح کیا ہے کہ اشتعال انگیزی، اسلحہ کے استعمال، سڑکوں کی بندش، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے یا شہریوں کے معمولاتِ زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ امن عامہ کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف قانون بلا امتیاز حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ پُر امن رہیں۔ ریاست میں امن کو خراب کرنے، تشدد کو ہوا دینے یا عوام کو غیر آئینی سرگرمیوں کی طرف اکسانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔دریں اثناء وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اعلان کیا ہےکہ سیاست کے نام پر انتشار پھیلانے والوں سے اب کسی قسم کی بات نہیں ہوگی۔ اپنے بیان میں فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھاکہ دھرنوں، جلاؤگھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کرنے والےعناصرطالبان خارجیوں کے حامی ہیں، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ماضی میں ہونے والے تمام مذاکرات کا گواہ ہوں، غیرسیاسی اور غیرپارلیمانی گروپ نے بارہا کوششوں کے باوجود مذاکرات کی میز پر آنے سے انکارکیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھاکہ ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کے بیانات ریکارڈ پرہیں، وہ ریاست پر دھاوا بولنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ریاست پرامن احتجاج کا حق دیتی ہے لیکن بلیک میلنگ کی اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی۔