کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے امور خزانہ بلال اظہر کیانی کی جانب سے چھوٹے تاجروں کیلئے اعلان کی گئی اسکیم کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے انہوں نے کہا ایک بار پھر چھوٹے تاجروں کے نام پر بڑی مچھلیوں کو ٹیکسوں سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کا بوجھ چھوٹے مجبور اوراپنی بقا کی جنگ لڑنے والے تاجروں پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہےجبکہ سارے سال حکومت ٹیکسوں کے مقررہ ٹارگٹ کی کمی کا رونا روتی ہے اور اس کمی کا بہانہ بنا کر عوام سے پیٹرول لیوی کے نام پر 178کروڑوں روپے سے زائد کی پیٹرول لیوی وصول کر چکی ہے جس کی وجہ سے معیشت اور تجارت تباہ اور عوام کا جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ محمود حامد نے کہا کہ ملک کے تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں مگر ہمارے حکمران ٹیکس چوروں سے ہاتھ ملائے ہوئے ہیں اور آج کا اعلان اس کا واضح ثبوت ہے کہ 25 کروڑ ٹرن اوور والے تاجروں اور پوائنٹ آف سیل کی صورت میں لاکھوں روپے سالانہ ٹیکس وصولی کرنے والوں کو 25 ہزار روپے کے عوض چھوٹ دی جا رہی ہے یہ حکومتی پالیسیوں کا کھلا تضاد ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں اس پالیسی کی آڑ میں اگر چھوٹے تاجروں کو جو اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں چھیڑا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور انجمن تاجران پاکستان کے حواریوں پر ہوگی جو بڑے مگرمچھوں کو ٹیکسوں سے بچا کر چھوٹے تاجروں کو پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی تمام تر خرابیوں کے ذمہ دار ان پالیسیوں کو بنانے اور اعلان کرنے والے ہوں گے۔