سکھر (بیورو رپورٹ) بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری و معاشی بدحالی کے انتہائی منفی اثرات سامنے آرہے ہیں، لوگوں کی بڑی تعداد نفسیاتی و ذہنی امراض میں مبتلاہونے لگی، سرکاری سطح پر ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے علاج کے لئے مناسب سہولتیں دستیاب نہیں، لوگ اپنے پیاروں کا علاج و معالجہ کرانے کے لئے بیرون شہر کے نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، معاشی مشکلات کے باعث جنم لینے والی خرابیوں کے انتہائی منفی اثرات انسانی ذہنوں پر مرتب ہورہے ہیں، جس کی واضح مثال لوگوں کی بڑی تعداد کا تیزی سے ذہنی امراض میں مبتلا ہونا ہے۔ سکھر سمیت سندھ کے چھوٹے و بڑے شہروں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تاہم حکومتی سطح پر ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے علاج و معالجے کے لئے خاطر خواہ سہولتیں نہیں ہیں. نفسیاتی امراض کا علاج کرنیوالے ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص اچانک ذہنی مرض کا شکار نہیں ہوتا بلکہ ابتدا میں چڑچڑا پن، غصہ، جھنجھلاہٹ، بات بے بات لڑائی جھگڑا کرنا مرض کی علامات میں شامل ہیں، اگر مرض کی ابتدائی اسٹیج پر مریض کو بہتر علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائے اور اسے مکمل یکسوئی و فراغت کے ساتھ توجہ دی جائے تو مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ اس ضمن میں سرکاری سطح پر کسی بھی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ تیزی سے ذہنی و نفسیاتی امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ دوسری جانب ذہنی و نفسیاتی امراض کے علاج و معالجے کی سرکاری سطح پر سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگ اپنے پیاروں کو علاج کی غرض سے حیدرآباد، کراچی، لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں قائم نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔