• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا فیصلہ محفوظ

میرپور(نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ صدر آزاد کشمیر کو کل اپنی آئینی رائے سے آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جبکہ جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی بینچ میں شامل تھے۔ جسٹس رضا علی خان ماضی میں مقدمات میں بطور وکیل پیش ہونے کے باعث سماعت میں شریک نہ ہوئےعدالت عظمیٰ نے صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی و قانونی نکات پر عدالتی معاونین، وکلاء اور مختلف فریقین کے تفصیلی دلائل سنے۔ سماعت کے دوران سینئر قانون دان راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت قانون ساز اسمبلی کو مکمل قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ارکان اسمبلی مہاجرین نشستوں کے معاملے پر اپنی آراء واضح کر چکے ہیں جبکہ اس معاملے کو ہائی پاور کمیٹی میں زیر غور لایا جانا چاہیئے تھا۔سماعت کے دوران وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق نے بھی مختلف قانونی نکات پر اپنے دلائل دیے۔ عدالت نے اس اہم آئینی سوال کا جائزہ لیا کہ آیا قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم یا تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ موجودہ قانون ساز اسمبلی کے آئینی ترمیم کے اختیار اور اسکی حدود پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ عدالت نے انتخابات روکنے یا آئینی ترمیم کیلئے دباؤ ڈالنے کی قانونی حیثیت پر بھی فریقین سے رائے طلب کی۔

اہم خبریں سے مزید