کراچی(این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے ہل پارک میں پہاڑ کی کٹائی اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت سندھ، کے ایم سی، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔درخواست گزار سہیل اقبال صدیقی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ متنازع پلاٹ کے قانونی مالک ہیں اور کے ایم سی نے 2 جون کو بغیر کسی قانونی نوٹس اور اختیار کے پلاٹ کی بانڈری وال مسمار کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ای سی ایچ ایس کے خط کے مطابق مذکورہ پلاٹ ہل پارک کی حدود میں شامل نہیں بلکہ مکمل طور پر پی ای سی ایچ ایس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔وکیل کے مطابق اراضی کا مکمل ریکارڈ بھی پی ای سی ایچ ایس کے پاس موجود ہے جبکہ کے ایم سی نے 21 اپریل کو اسی پلاٹ پر بانڈری وال کی تعمیر کے لیے این او سی بھی جاری کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ باؤنڈری وال کی مسماری غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیا جائے اور متعلقہ حکام کو پلاٹ میں مداخلت یا بے دخلی کی کسی بھی کارروائی سے روکا جائے۔عدالت نے تمام فریقین سے 11 جون تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔