کراچی (ٹی وی رپورٹ) آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کوشش ہے کہ معاملات کے حل کے لئے کوئی راستہ نکلے اور بیک ڈور رابطے اب بھی جاری ہیں۔ اگر وہ بات چیت کے ذریعے پیش رفت چاہتے ہیں تو حکومت آزاد کشمیر ہر ممکن تعاون کرے گی۔ تاہم تین روز قبل ہونے والی براہ راست ملاقات میں بلاول بھٹو کا پیغام پہنچانے کے باوجودجوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور واضح کیا کہ وہ حکومت آزاد کشمیر کا کوئی کردار نہیں چاہتے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی رہی ہے کہ یہاں امن قائم رہا ہے۔ لیکن آج یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ ریاست کو دنیا بھر سے آئے سیاحوں کو یہ کہنا پڑا کہ وہ آزاد کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں۔ ہمارا یہ سوال اپنے آپ سے بھی ہے اور لوگوں سے بھی کہ کیا مفادات کو حاصل کرنے کا یہ طریقہ درست ہے اور ایسی ریاست جس کی حساسیت اہمیت اور اسٹیٹس سے آپ واقف ہیں۔ بھارت ہمارا دشمن اس تاک میں بیٹھا ہے کہ کچھ ہو اور وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردے۔ یقینا ہمارے نظام میں کمی کوتاہی ہے الزام لگایا جاتا ہے سیاستدانوں نے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہیں کئے اس میں شک نہیں کہ دنیا بھر میں سیاستدانوں پر تنقید ہوتی ہے ۔پیپلز پارٹی کی جو چھ سات ماہ کی حکومت تھی تقریباً ایک ہزار اسکول دئیے چیزں بہتر ہوئی ہیں یقینا کمیاں بھی موجود ہیں۔ اس میں غلطیاں کی جارہی ہیں اور بنیاد مقبول بیانیہ حقوق کے نام پر اگر حقوق کی بات کر رہے ہیں تو پورے پاکستان سے موازانہ کریں تین روپے فی یونٹ کسی صوبے میں نہیں ہے اور آٹا سب سے زیادہ سستا ہے یقینا مزید حقوق چاہیں لیکن حقوق کے نام پر ریاست کو بند کر کے ایسا ماحول نہیں بنایا جاتا کہ دنیا ہم پر سوال اُٹھائے۔ کیا ریاست میں لاشیں گرنے اور ریاست کو بند کرنے کے بعد پھر بیٹھنا ہے مذاکرا ت کے عمل میں خود شریک رہا اور کہا کہ آئیے معاملات کو بیٹھ کر حل کرتے ہیں جبکہ سامنے سے یہ کہا جاتا ہے مطالبات حل بھی کردئیے جائیں پھر بھی ہم لانگ مارچ کریں گے اور ریاست کو بند کرنا ہے۔