کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا گیا، پولیس کارروائی میں ملزم ہلاک، متاثرہ ڈاکٹر ائیر ایمبولنس میں کراچی منتقل، تیزاب سے دیگر دو افراد بھی زخمی ،واقعہ کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے انہوں نے بتایا کہ ہ ملزم اسپتال میں لفٹ آپریٹر تھا ملزم نے قتل کے ارادے سے خاتون ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ کیا، سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون پی جی ڈاکٹر پرتیزاب پھینک دیا گیا ۔ تیزاب سے جھلس کر خاتون ڈاکٹر سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے ملزم کا تعاقب کیا اور نوشکی بس اسٹاپ پر اسے گھیر لیا ۔ ملزم اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا ۔ وزیر اعلی کی ہدایت پر لیڈی ڈاکٹر کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا ۔ وزیر داخلہ بلوچستان نے واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق سول ہسپتال میں گزشتہ روز سرجری میں پوسٹ کریجویشن کرنے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینک دیا گیا جس سے ان کی چہرہ ، سینہ اور بازو شدید متاثر ہوئے ۔ انکے ساتھ مزید دو افراد بھی زخمی ہو گئے۔ تیزاب پھینکنے کا ملزم موقع سے فرار ہو گیا ۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو فوری طور پرشعبہ نگہداشت منتقل کیا گیا جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر نے کیلئے پولیس حرکت میں آ گئی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی لوکیشن کا سراغ لگا کر اس کا تعاقب کیا اور نوشکی اسٹاپ پر اسے گھیرے میں لے کر گرفتار کرنے کی کوشش کی تو ملزم نے پولیس پر فائرنگ کر دی ۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ملزم ہلاک ہو گیا۔پولیس حکام کے مطابق خاتون ڈاکٹر کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے چہرے اور جسم کا تقریبا 35 فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔ کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں تیزاب گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر کو علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وہ نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم ہے۔