کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وفاقی محتسب نے ایک اہم فیصلے میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ایچ اے) کو ہدایت کی ہے کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے ان ملازمین کو، جنہیں وفاقی حکومت کے کوٹے کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ اسکیموں سے خارج کیا گیا تھا، ان کی درخواستوں کی تاریخ سے وفاقی ملازمین تصور کرتے ہوئے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اور الاٹمنٹ کے عمل میں شامل کیا جائے۔ وفاقی محتسب کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق شکایت ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع اور دیگر سابق ملازمینِ جے پی ایم سی نے دائر کی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد جے پی ایم سی کو سندھ حکومت کے حوالے کرنے کا اقدام سندھ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی روشنی میں غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جس کے نتیجے میں جے پی ایم سی کی وفاقی حیثیت بحال رہی اور اس کے ملازمین بھی وفاقی ملازمین ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ایف جی ایچ اے نے انہیں وفاقی ملازمین کے لیے مختص رہائشی اسکیموں میں شامل نہیں کیا۔ شکایت کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ جے پی ایم سی کے بعض دیگر ملازمین کو مختلف ادوار میں پلاٹ یا فلیٹ الاٹ کیے گئے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر سید ہارون احمد، ڈاکٹر محمد عثمان، ڈاکٹر شاہد رسول، ڈاکٹر ناصر جگرانی اور ڈاکٹر سیمین جمالی کے نام بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اسکیموں سے باہر رکھنا امتیازی سلوک، جانبداری اور مساوی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ایف جی ایچ اے نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ شکایت کنندگان نے اس وقت درخواستیں جمع کرائی تھیں جب جے پی ایم سی سندھ حکومت کے انتظامی کنٹرول میں تھا، اس لیے وہ وفاقی کوٹےکے تحت پلاٹوں کے اہل نہیں تھے۔ وفاقی محتسب نے فریقین کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایف جی ایچ اے کے مؤقف کو مسترد کردیا۔