کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن نے غیرملکی ڈگریوں سے متعلق ایڈوائزری جاری کردیجنہیں 2026 کے بعد تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ طلبہ داخلہ لینے سے پہلے احتیاط برتیں کیونکہ 2026 کے بعد ہر فارمیٹ کو پاکستان میں تسلیم نہیں کیا جائے گا۔کمیشن کے مطابق ایسی ڈگریاں جو سرکاری طور پر روایتی آن کیمپس پروگراموں کے طور پر رجسٹرڈ ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر آن لائن یا لرننگ طریقوں سے مکمل کیا گیا ہو، 2026 کے بعد پاکستان میں تسلیم نہیں کی جائیں گی۔یہ انتباہ ناصرف بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھنے والے طلبہ پر لاگو ہوتا ہے، بلکہ ان طلبہ پر بھی لاگو ہوتا ہے جو پہلے سے ہی غیر ملکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔کمیشن نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان واپسی پر سنگین پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ڈگری کی جانچ پڑتال کروائیں۔کمیشن نے واضح کیا کہ ڈگری کی مساوات کے لیے درخواستوں پر کارروائی اس کے آن لائن سسٹم کے ذریعے جاری رہے گی، جس میں ہر کیس کا انفرادی طور پر اس کی اپنی تعلیمی خوبیوں کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اس ایڈوائزری کا مقصد طلبہ کو مستقبل کے تعلیمی، پیشہ ورانہ اور قانونی نقصانات سے بچانا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ غیر ملکی اسناد پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق رہیں۔