• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، اللہ کا ذکر، تسبیح و تحلیل بھی صدقہ ہے۔ نیکی کا حُکم، برائیوں سے روکنا، بیوی سے اچھا سلوک، استغفار کہنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ اندھے کو راستہ دکھانا، گونگے، بہرے کو بات سمجھانا، کسی کی مدد کرنا، اچھی بات کرنا صدقہ ہے۔

پانی کا گھونٹ پلا دینا صدقہ ہے۔ بیوی کو کِھلانا، بچّوں پر خرچ کرنا، خادم کو دینا، اپنی جان پر خرچ کرنا کہ اللہ کی عبادت کی جائے۔ مسلمان بھائی سے مُسکرا کر ملنا، مسلمان بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے۔

تین دن کی مہمان داری کے بعد بھی مہمان کو کھلانا پلانا صدقہ ہے۔ اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف نہ دینا، دو مسلمان بھائیوں میں صلح کروانا، اپنی سواری پر کسی کو بٹھا لینا، کسی کا سامان اُٹھا لینا، نماز کے لیے قدم اُٹھانا صدقہ ہے۔

قرض دینا صدقہ ہے، قرض دار کو مہلت دینا بھی صدقہ ہے، کسی کے باغ میں سے کوئی پھل انسان یا جانور کھالے تو صدقہ ہے۔ سلام کرنا صدقہ ہے۔ صدقہ جہنم کی آگ سے بچاتا، اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ اللہ چاہے تو ہمارے معمولی سے صدقے کو قبول کر کے احد پہاڑ کے برابر کرکے روزِ قیامت ہمارے سامنے لے آئے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ صدقہ کرنے سے مال بڑھتا ہے۔ یہ بُری موت سے بچاتا ہے اور قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا۔ آئیے، اللہ تعالیٰ سے نفع بخش سودے کی تجارت کرلیں۔ دنیاوی سودوں میں تو گھاٹے کا امکان سو فی صد رہتا ہے، لیکن ربّانی سودے 100 فی صد نفع ہی دیتے ہیں۔ (مصباح طیّب، سرگودھا)

سنڈے میگزین سے مزید