عمران رفیع
ایک وقت تھا، جب کراچی مختلف النّوع پودوں، پھولوں اور درختوں سے بَھرا، لدا ہوا شہر تھا اور اِس کے اِسی سرسبز، خُوب صُورت ماحول کی وجہ سے ہرطرف رنگ برنگی، دل کُشا تتلیاں اُڑتی پِھرتی دکھائی دیتی تھیں، جو شہر کے معتدل موسم، قدرتی ماحول کے حُسن کو گویا چار چاند لگاتی تھیں۔ لیکن اب کراچی یک سر بدل گیا ہے۔ آج یہ کنکریٹ کا جنگل ہی نہیں، ہر طرح کی آلودگی کا مسکن بھی ہے۔
نتیجتاً ایک طرف بھانت بھانت کے طیور کی آواز سُننےکوکان ترس گئےہیں، تو دوسری جانب رنگ برنگی تتلیاں بھی گویا شہر سےکُوچ ہی کرگئی ہیں۔ خال ہی کبھی کہیں کوئی بھولی بھٹکی تتلی دکھائی دے جاتی ہے۔ اِس ضمن میں ایک اہم وجہ یہاں سے درختوں کی بے دریغ کٹائی بھی ہے کہ جب پودے، پھول، درخت ہی موجود نہ ہوں گے، تو تتلیاں کس پر آئیں گی، ڈالی ڈالی منڈلانے والی یہ مخلوق کنکریٹ کے جنگل، گندگی، غلاظت کے ڈھیر، تعفّن زدہ ماحول سے دُور بھاگتی ہے۔ وہ اپنی خوراک اور پناہ کے لیے ہمیشہ فطرت پر انحصار کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، شہروں اور قدرتی ماحول سے تتلیوں کی کمی کی بنیادی وجہ تیز رفتار شہری پھیلاؤ، بلندوبالا عمارات کی تعمیر (کنکریٹ کا جنگل بن جانا)، پیسٹی سائیڈز(کیڑے مار ادویہ) کا بےدریغ استعمال اور قدرتی باغات کی تباہی اور بڑھتی ہوئی فصائی آلودگی ہے، جب کہ فضائی آلودگی کی اہم وجوہ میں انڈسٹریز، ٹریفک کادھواں، پلاسٹک بیگز کا بےپناہ استعمال اور سالڈ ویسٹ کا جلانا وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان کے روایتی دیہی اور شہری علاقوں سے تتلیوں کے غائب ہونے کے اہم عوامل میں خوراک اورمسکن کی کمی سرِفہرست ہے۔ واضح رہے، تتلیوں کو انڈے دینے کے لیے مخصوص پودوں، پھولوں کے رس کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز، تتلیاں سردی کےموسم میں اُڑ بھی نہیں سکتیں۔
وہ یہ موسم پتّوں کے نیچے، درختوں کی چھال یا غاروں میں چُھپ کر (Hibernationمیں) گزارتی ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ شہروں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ کے سبب تتلیوں نے یہاں سےمنہ موڑا ہے، تو دیہی علاقوں میں زراعت میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکلز نہ صرف فصلوں کے کیڑے مارتے ہیں، بلکہ تتلیوں اور ان کی سُنڈیوں (caterpillars) کو بھی ہلاک کر دیتے ہیں۔ نیز، دن بہ دن بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور غیر متوقع بارشیں بھی تتلیوں کے قدرتی نظامِ افزائش کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔
ماہرین ہی کا کہنا ہے کہ اگر تتلیوں کے ماحولیاتی توازن کی بحالی کے لیے گھروں کی کیاریوں، لانز یا چھتوں پر پھول دار اور شہد دارپودے (جیسے گیندا، موتیا، سورج مکھی، لیونڈر، چنبیلی اور گلاب وغیرہ) لگائے جائیں۔ اُن کے لیے میزبان پودوں کا، جن پر وہ انڈے دیتی ہیں (جیسے کڑی پتا یا لیموں کاپودا) انتظام کیا جائے ۔ اپنے ماحول کو جس حد تک ممکن ہو، سازگار بنایا جائے۔ کیڑے مار ادویہ کا استعمال ترک کرکے متبادل قدرتی طریقے اپنائے جائیں۔
تتلیوں کےلیے کسی برتن میں پانی اور تھوڑا سا شہد ملا کر رکھا جائے، علاقے کے قدرتی پودوں کی افزائش کو ترجیح دیں کہ مقامی تتلیاں اُن کی عادی ہوتی ہیں۔چوں کہ تتلیاں نم مٹی سے ضروری نمکیات اور منرلز چوستی ہیں، تو اُن کے لیے پانی اور نمکیات کا انتظام کریں۔ اُنھیں مناسب دھوپ اور پناہ گاہیں فراہم کریں، تو ہماری ایسی ہی چند ایک سنجیدہ کوششوں سے وہ اپنے پرانے مساکن کی طرف لوٹ آئیں گی۔ مطلب، ہماری ذراسی کوشش و جستجو سے کراچی ایک بار پھر ایسا شہر بن سکتا ہے، جہاں تتلیاں آزادانہ اُڑتی پھریں اور شہر کی خُوب صُورتی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔