• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

NFC اور بینظیر انکم پروگرام کو چھیڑے بغیر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مالیاتی معاہدے پر اتفاق، کابینہ ذرائع کا دعویٰ

انصار عباسی

اسلام آباد:…نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملک میں وسائل کی تقسیم کے فریم ورک پر ایک وسیع مفاہمت طے پا گئی ہے، تاہم اس میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو باضابطہ طور پر چھیڑا نہیں گیا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے آگاہ ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے اور بی آئی ایس پی کے ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کو مرکز کی مالی مشکلات کے حل اور موجودہ سماجی تحفظ اور وسائل کی تقسیم کے نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم مجوزہ نئے انتظام کے تحت صوبے مل کر 10کھرب روپے سے زائد مالی وسائل وفاق کو دیں گے۔ اس کی تفصیلات تکنیکی کمیٹیاں طے کریں گی۔ ذرائع کے مطابق، یہ مفاہمت اسلام آباد کو درپیش مالی دباؤ کم کرنے کیلئے ایک سمجھوتہ ہے، تاکہ این ایف سی ایوارڈ جیسے سیاسی طور پر حساس معاملے کو باضابطہ طور پر دوبارہ نہ کھولا جائے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس آمدن کی تقسیم کا تعین کرتا ہے۔ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ کی پارلیمنٹ میں پیشی میں تاخیر کی ایک وجہ پیپلز پارٹی کی جانب سے این ایف سی اور بی آئی ایس پی کو نہ چھیڑنے پر اصرار بھی بتائی جا رہی ہے۔ بعض با اثر حلقوں میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو دیے جانے والے این ایف سی حصے پر بے چینی پائی جاتی ہے، اور یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ اس فارمولے کے تحت صوبوں کو ان کی فنڈز خرچ کرنے کی استعداد سے زیادہ وسائل مل رہے ہیں جبکہ مرکز کے پاس محدود مالی گنجائش رہ گئی ہے۔ اسی بنیاد پر ایک نئے این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ بھی سامنے آتا رہا، تاہم سندھ اس کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔ مرکز کی مالی مشکلات کے پیش نظر بی آئی ایس پی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں، لیکن اس معاملے میں بھی پیپلز پارٹی سب سے بڑی مخالف رہی۔ اب اطلاعات کے مطابق، موجودہ نظام میں ایک اہم شراکت دار سمجھی جانے والی پیپلز پارٹی مجوزہ ایڈجسٹمنٹ میکنزم پر رضامند ہو گئی ہے، تاہم ضروری نہیں کہ یہ براہِ راست این ایف سی حصے میں کمی کی صورت میں ہو۔ اس کے بجائے یہ بالواسطہ اقدامات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، مثلاً اخراجات کی نئی ترتیب (ری الائنمنٹ)، بعض ترقیاتی مدات میں وفاقی منتقلی میں کمی، یا وفاقی فنڈڈ منصوبوں سے متعلق صوبائی ذمہ داریوں میں تبدیلی۔ تاہم ان تفصیلات پر ابھی اعلیٰ قیادت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نمائندوں نے نون لیگ کو بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی جیسے معاملات پارٹی کیلئے سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں، لہذٰا انہیں برقرار رکھا جائے جبکہ مطلوبہ مالی ایڈجسٹمنٹ دیگر ذرائع سے کی جائے۔ بی آئی ایس پی کو دائرہ کار اور فنڈنگ دونوں کے حوالے سے محفوظ رکھا جائے گا، جو سماجی بہبود کے پروگراموں سے متعلق پارٹی کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نون لیگ پیپلز پارٹی کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں صوبوں کو مرکز پر مالی دباؤ کم کرنے اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید