اسلام آباد (رپورٹ: رانا مسعود حسین) وفاقی آئینی عدالت نے جنوری 2023سے فروری 2024کے دوران خیبر پختونخوا ء میں نگران حکومت کے دور میں کی جانے والی تمام بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نگران حکومت کا کام صرف ریاست کے انتظامی معاملات کو عارضی طور پر چلانا ہوتا ہے، اسے مستقل یا بڑے پالیسی فیصلے کرنے کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ،عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ نگران سیٹ اپ کے دوران اگر کوئی انتظامی یا ترقیاتی اقدام ناگزیر ہو، تو اس کے لیے بھی عوامی مفادکا ٹھوس جواز ہونا چاہیے اور اس کے لیے الیکشن کمیشن سے پیشگی منظوری لینا لازمی ہے، تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رہے اور آنے والی منتخب حکومت کے اختیارات پر کوئی اثر نہ پڑے،جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی ۔