کراچی ( اسٹاف رپورٹر)پیپلز پارٹی کے سیمینار میں کہا گیا ہے کہ سندھ 18 ویں ترمیم کو رول بیک نہیں ہونے دے گا، قومی مالیاتی کمیشن کا فوری اجلاس طلب کرکے نئے مالیاتی ایوارڈ کا اجراء کیا جائے،صدارتی خطاب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت کسی شہرکا انتظامی کنٹرول نہیں لے سکتی۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پیپلز پارٹی سندھ کے زیر اہتمام سیمینار عنوان ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کتوتی،18 ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں‘‘ منعقد ہوا۔ سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبے کو صرف صوبے کے مفاد میں وفاقی قوانین پر عملدرآمد کے لئے ہدایات دے سکتی ہے تاہم وفاقی حکومت کسی شہرکا انتظامی کنٹرول نہیں لے سکتی۔ 18 ویں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے پارلیمنٹ سے منظور ہوکر آئین کا حصہ بن چکی۔ سابق چیئرمین سینیٹ آف پاکستان میاں رضا ربانی نے مہمان خصوصی کےطور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کےکراچی سندھ کا دارالحکومت تھا اور اب بھی ہے اس لئے کراچی سندھ سے نہ الگ ہے نہ ہی کبھی الگ ہوگا اور کراچی اور گوادر کو وفاق کے ماتحت چلانے کے لئے پارلیمنٹ می دو تھائی اکثریت سے ترمیم کی ضرورت ہوگی اور جو لوگ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ پہلے وفاق اور صوبے میں دو تھائی اکثریت لے آئیں۔