پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں نصب 82 کلو واٹ ہائبرڈ سولر پاور سسٹم کے تکنیکی آڈٹ اور معائنے میں سنگین بے ضابطگیوں اور حقائق چھپانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ انکشاف اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے سیکرٹری انرجی اینڈ پاور کو ارسال کیے گئے ایک مراسلے میں کیا گیا ہے، جس کی نقول چیف سیکرٹری، اور محکمہ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا کو بھی بھجوائی گئی ہیں۔ خط میں صوبائی محکمہ توانائی کے معائنہ کاروں کی کارکردگی اور دیانت داری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر سولر سسٹم کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ نہ کرایا گیا تو معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے سولرائزیشن منصوبے کے تحت جوڈیشل اکیڈمی میں 82 کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کیا گیا تھا۔ اس سسٹم کا تکنیکی معائنہ 12 فروری 2026 کو ڈپٹی الیکٹرک انسپکٹر اور ان کی ٹیم نے کیا، جس کے دوران اکیڈمی کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دستاویزات کے مطابق معائنے کے دوران سسٹم میں متعدد تکنیکی نقائص اور سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔