بھارتی گلوکار گرو رندھاوا ایک نئی مشکل میں گھر گئے، ان کے فٹنس جم پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے پشم وہار میں واقع گرو رندھاوا کے فٹنس فرنچائز کے جم کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق 10 جون کو اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے 2 موٹر سائیکل سوار جم کے باہر پہنچے جنہوں نے متعدد گولیاں چلا دیں۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی جس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا، خوش قسمتی سے فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کے بعد بدنامِ زمانہ لارنس بشنوئی گینگ نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
گینگ سے منسلک ایک شخص انیل پنڈت نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ گرو رندھاوا کے جم کو انہیں خبردار کرنے کے لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ سلمان خان کے بہت قریب ہوتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر گرو رندھاوا نے سلمان خان سے قربت برقرار رکھی تو مستقبل میں مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرو رندھاوا کے جم پر فائرنگ کے واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمے دار عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
سلمان خان اور لارنس بشنوئی گینگ کے درمیان کشیدگی کی جڑیں 1998ء کے مشہور کالے ہرن کے شکار کے مقدمے سے جڑی ہیں، الزام تھا کہ سلمان خان نے فلم کی شوٹنگ کے دوران راجستھان میں 2 کالے ہرنوں کا شکار کیا تھا۔
بشنوئی برادری کالے ہرن کو مقدس جانور سمجھتی ہے، جس کے باعث لارنس بشنوئی اور اس کے ساتھی کئی برسوں سے سلمان خان کو دھمکیاں دیتے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ لارنس بشنوئی گینگ گزشتہ چند برسوں میں متعدد ہائی پروفائل جرائم کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے، گینگ پر 2022ء میں معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل، کینیڈا میں گپی گریوال کے گھر پر حملے، ممبئی میں سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ اور سیاستدان بابا صدیقی کے قتل جیسے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔